بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی | azharalimi95@gmail.com
لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

مردوں کے لیے داڑھی منڈوانے یا کٹوانے کا حکم

کیا داڑھی ایک مٹھی سے کم کٹوانا یا بالکل منڈوانا جائز ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

داڑھی رکھنا تمام انبیائے کرام کی سنت اور مسلمانوں پر واجب ہے۔ چاروں ائمہ کے نزدیک داڑھی کو ایک مٹھی سے پہلے کٹوانا یا بالکل شیو کر دینا (منڈوانا) حرام اور گناہِ کبیرہ ہے، اور ایسا کرنے والا فاسق کہلاتا ہے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات