بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی | azharalimi95@gmail.com
لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

کیکڑے (Crab) اور آکٹوپس کھانے کا شرعی حکم

کیا سمندری خوراک میں کیکڑا (Crab) کھانا حلال ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

فقہ حنفی کے متفقہ اصول کے مطابق سمندری اور آبی جانوروں میں صرف ‘مچھلی’ کی تمام اقسام حلال ہیں۔ کیکڑا، آکٹوپس، کچھوا، اور گھونگے مچھلی کی قسم سے نہیں ہیں، اس لیے احناف کے نزدیک ان کا کھانا حرام (مکروہِ تحریمی) ہے۔ البتہ دیگر فقہوں (جیسے شوافع) میں یہ حلال ہیں۔ حنفی مقلد کے لیے بچنا لازم ہے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات