لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
quadrisociety@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
18 ستمبر 2025

آدھار کارڈ سے پیسہ نکالنے اور آن لائن کاموں پر فکس کمیشن لینا جائز ہے

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ بعدِسلام عرض یہ ہیکہ میں نے اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فضل و کرم سے ایک کتاب کی دوکان کھولی ہے جس میں کچھ آنلائن کام بھی کررہا ہوں جیسے آدھار کارڈ سے پیسہ نکالنا اور پیسہ جمع کرنا اور (منی ٹرانسفر) پیسہ بھیجنا اور ریلوے ٹکٹ نکالنا ایسے ہی بہت سے کام ہیں- تو میرا سوال یہ ہیکہ جیسا کہ گاؤں یا شہر وغیرہ میں عام طور پر دوکان یا چھوٹے بینک سے پیسہ نکالنے پر ہر ایک ہزار پر 10روپئے یا کچھ ایکسٹرا چارج یا کمیشن لیا جاتا ہے ایسے اور بھی آنلائن کاموں میں جو بھی ایکسٹرا کمیشن یا چارج لیا جاتا ہے کیا زید کا یہ ہر ایک ہزار پر ایکسٹرا کمیشن یا چارج لینا جائز و درست ہےـ آپ مفصل و مدلل جواب عنایت فرمائیں بڑی نوازش ہوگی-  

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

آدھار کارڈ سے پیسہ نکالنے اور آن لائن کاموں پر فکس کمیشن لینا جائز ہے?

 

وعليكم السلام و رحمۃاللہ وبرکاتہ۔

صورت مذکورہ میں آدھارکارڈ یا ایٹیم کارڈ وغیرہ سے پیسے نکالنے پر جو کمیشن یا چارج لیاجاتا ہے وہ بطور اجرت لیاجاتا ہے جس طرح آج کل کچھ پرائیوٹ منی بینک اس طرح کا کام کرتی ہیں اور اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ لوگوں سے آدھارکارڈ کے ذریعہ ان کے اکاؤنٹ سے پیسے نکال کر اپنے یا کسی دوسرے کے اکاؤنٹ میں ڈالتے ہیں جس پر کچھ خرچ بھی آتا ہے پھر وہ پیسے اپنے پاس سے گراہک کو ادا کردیتے ہیں جس پر وہ لوگوں سے متعینہ فیس وصول کرتے ہیں اس لحاظ سے ان کی حیثیت اجیر مشترک کی ہوتی ہے جو ایک وقت میں مختلف لوگوں کے کام کرتے ہیں اور اپنے کام وخرچ کے لحاظ سے مزدوری پاتے ہیں جیسے دھوبی، درزی وغیرہ. ہدایہ میں ہے”الاجارۃ قد تکون عقدا علی العمل کاستئجار القصار والخیاط ولا بد أن یکون العمل معلوما و ذلك فی اجیر المشترك” اھ(ج٣ص٢٧٨،کتاب الاجارات) بنایہ میں ہے”انما الاجارۃ علی الأعمال فکاستئجار الاسکاف والقصار والصباغ وسائر من یشترط علیہ العمل فی سائر الأعمال من حمل الأشياء من موضع ونحوہ”اھ(ج١٠ص٢٣٠ کتاب الاجارات، دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان) اسی طرح آن لائن دیگر کاموں پر بھی جو کمیشن یا چارج لیاجاتا ہے وہ بھی بطور اجرت ہی لیا جاتا ہے اور دکاندار اپنے کام کی اجرت ہی لیتا ہے. لہذا آدھارکارڈ وغیرہ سے پیسے نکالنے یا دیگر آن لائن کاموں پر جو کمیشن یا چارج لیاجاتا ہے وہ جائز ہے کہ یہ حقیقت میں اجارہ ہے اور وہ ایک اجیر مشترک کی دکان ہے جو بغرض تحصل اجرت کھولی گئی ہے۔ 

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: محمد ارشد حسین الفیضی
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی
فتویٰ ریفرنس: MW-1584 تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

تجارت کے مسائل