آدھار کارڈ سے پیسہ نکالنے اور آن لائن کاموں پر فکس کمیشن لینا جائز ہے?
وعليكم السلام و رحمۃاللہ وبرکاتہ۔
صورت مذکورہ میں آدھارکارڈ یا ایٹیم کارڈ وغیرہ سے پیسے نکالنے پر جو کمیشن یا چارج لیاجاتا ہے وہ بطور اجرت لیاجاتا ہے جس طرح آج کل کچھ پرائیوٹ منی بینک اس طرح کا کام کرتی ہیں اور اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ لوگوں سے آدھارکارڈ کے ذریعہ ان کے اکاؤنٹ سے پیسے نکال کر اپنے یا کسی دوسرے کے اکاؤنٹ میں ڈالتے ہیں جس پر کچھ خرچ بھی آتا ہے پھر وہ پیسے اپنے پاس سے گراہک کو ادا کردیتے ہیں جس پر وہ لوگوں سے متعینہ فیس وصول کرتے ہیں اس لحاظ سے ان کی حیثیت اجیر مشترک کی ہوتی ہے جو ایک وقت میں مختلف لوگوں کے کام کرتے ہیں اور اپنے کام وخرچ کے لحاظ سے مزدوری پاتے ہیں جیسے دھوبی، درزی وغیرہ. ہدایہ میں ہے”الاجارۃ قد تکون عقدا علی العمل کاستئجار القصار والخیاط ولا بد أن یکون العمل معلوما و ذلك فی اجیر المشترك” اھ(ج٣ص٢٧٨،کتاب الاجارات) بنایہ میں ہے”انما الاجارۃ علی الأعمال فکاستئجار الاسکاف والقصار والصباغ وسائر من یشترط علیہ العمل فی سائر الأعمال من حمل الأشياء من موضع ونحوہ”اھ(ج١٠ص٢٣٠ کتاب الاجارات، دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان) اسی طرح آن لائن دیگر کاموں پر بھی جو کمیشن یا چارج لیاجاتا ہے وہ بھی بطور اجرت ہی لیا جاتا ہے اور دکاندار اپنے کام کی اجرت ہی لیتا ہے. لہذا آدھارکارڈ وغیرہ سے پیسے نکالنے یا دیگر آن لائن کاموں پر جو کمیشن یا چارج لیاجاتا ہے وہ جائز ہے کہ یہ حقیقت میں اجارہ ہے اور وہ ایک اجیر مشترک کی دکان ہے جو بغرض تحصل اجرت کھولی گئی ہے۔