لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

کیا ولدالزنا کوحرامی کہہ سکتے ہیں؟ از مفتی سید نعمان احمد

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کیا ولدالزنا کوحرامی کہہ سکتے ہیں؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ ایک جماعت کا کہنا ہے جو بچہ زنا سے پیدا ہوا اس کوحرامی کہا جائے گا اور ایک جماعت کا کہنا ہے کہ حرامی نہیں کہا جائے گا گزارش یہ ہے کہ کون جماعت حق پر ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں. الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــ زنا سے جو بچہ پیدا ہوا اسے حرامی کہہ کر ہرگز نہیں پکارنا چاہیے کہ اس سے اس کو تکلیف پہنچے گی اور مومن کو تکلیف دینا حرام ہے. اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے حدیث پاک میں ہے ” من آذی مسلما فقد آذانی ومن آذانی فقد آذی اللہ " جس نے کسی مسلمان کو ناحق ایذا دی اس نے مجھ کو ایذا دیا اور جس نے مجھ کو ایذا دیا اس نے اللہ کو ایذا دیا. ( کنزالعمال جلد 16 صفحہ 10) اور فتاوی مصطفویہ میں ہے زنا سے جو بچہ پیدا ہوا وہ ضرور ولد الزنا ہے مگر اسے اس طرح کہنا کہ ناحق ایذا پہنچے یہ ہرگز نہیں چاہیے جیسے کانے کو کانا کہنا. ١ھ. (جلد ١ صفحہ 537) اس میں بچے کا کوئی قصور نہیں قصور تو اس زانی اور زانیہ کا ہے. اس لئے بچہ کو ولدالزنا نا یا حرامی کہنے سے بچی واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی سید نعمان احمد الجواب صحیح :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات