بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2056 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کیا عورت اپنے شوہر کو نام سے پکار سکتی ہے ؟
الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ خاوند عورت کا نام لے کر پکارے یا عورت خاوند کا نام لے کر پکارے تو یہ جائز ہے، اس میں کچھ عیب نہیں ہے، البتہ چونکہ نام لے کر آواز دینے میں ایک قسم کی شانِ خلاف ادب پائی جاتی ہے، اس لیے زوجہ (عورت ) کے لیے مکروہ ہے کہ اپنے خاوند کا نام لے کر اس کو آواز دے․․․“ ویکرہ أن یدعو الرجل وأن تدعو المرأة زوجہا باسمہ (الدر المختار مع الشامي) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبــــــــــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ