صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2264 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

کیا ساس سسر کے ترکہ میں داماد یا بہو کا حصہ ہوتا ہے؟/ مسائل ورلڈ

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 9,275

سوال (Question):

کیا ساس سسر کے ترکہ میں داماد یا بہو کا حصہ ہوتا ہے؟/ مسائل ورلڈ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

کیا ساس سسر کے ترکہ میں داماد یا بہو کا حصہ ہوتا ہے؟

سائل : محمد محمود اشرف ممبی الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب ساس سسر کی جائیداد میں داماد یا بہو اپنے اس رشتہ کی وجہ سے کسی طرح وارث نہیں ۔ ہاں اگر کسی اور رشتہ کے طور پر وارث بنیں تو ممکن ہے مثلا ًدامادبھتیجا ہو اوردیگر مقدم ورثاء نہ ہوں تو اب یہی وارث ہوگا ۔ چنانچہ فتاویٰ رضویہ میں ہے: داماد یاخسرہونا اصلاً کوئی حقِ وراثت ثابت نہیں کرسکتا خواہ دیگر ورثاء موجود ہوں یانہ ہوں ۔ ہاں اگر اوررشتہ ہے تواس کے ذریعہ سے وراثت ممکن ہے مثلاًداماد بھتیجا ہے خسرچچاہے تواس وجہ سے باہم وراثت ممکن ہے ۔ ایک شخص مرے اوردو وارث چھوڑے ایک دختراورایک بھتیجا کہ وہی اس کا داماد ہے توداماد بوجہ برادر زادگی نصف مال پائے گا اوراگراجنبی ہے توکل مال دختر کو ملے گا داماد کاکچھ نہیں ۔ وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبـــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat