وراثت میں سے عورتوں کے حصے قرآن و حدیث سے

اصحاب فرائض میں سے عورتوں کے حصے قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کیجئیے؟

سائل : محمد ظاروف عطاری مدنی آزاد کشمیر

بسمہ تعالیٰ

الجواب بعون الملک الوھّاب

اللھم ھدایۃ الحق و الصواب

شرعی طور پر بارہ قسم کے افراد کے لئے حصے مقرر ہیں، جن کو اصحاب فرائض کہتے ہیں، ان میں سے چار مرد اور آٹھ عورتیں ہیں ۔

مرد یہ ہیں :

1- باپ۔

2- جد صحیح یعنی دادا، پر دادا۔ (اوپر تک)

3- ماں جایا بھائی۔

4- شوہر۔

عورتیں یہ ہیں :

1- بیوی۔

2- بیٹی۔

3- پوتی۔ (نیچے تک)

4- حقیقی بہن۔

5- باپ شریک بہن۔

6- ماں شریک بہن۔

7- ماں۔

8- اور جدّۂ صحیحہ (دادی)۔

ہم اب عورتوں کے حصوں کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں :

1- بیویوں کے حصوں کا بیان

1- اگر میّت کی بیوی کے ساتھ میت کا بیٹا بیٹی یا پوتا پوتی نہ ہو تو اس کو کُل مال کا چوتھائی ملے گا۔

(عالمگیری، جلد 6، صفحہ 450، درمختار جلد 5، صفحہ 674)

2- اگر میت کی بیوی کے ساتھ میت کا بیٹا بیٹی یا پوتا پوتی ہو تو اس کو آٹھواں حصہ(2) ملے گا۔

(عالمگیری، جلد 6، صفحہ 450، درمختار جلد 5، صفحہ 674)

2- حقیقی بیٹیوں کے حصوں کا بیان

1- گر صرف ایک بیٹی ہو تو اس کو آدھا ملے گا۔

(عالمگیری، جلد 6، صفحہ 448، درمختار جلد 5، صفحہ 676)

2- اگر بیٹیاں دو یا دو سے زائد ہوں تو ان سب کو دو تہائی ملے گا اور ان میں برابر برابر تقسیم ہوگا۔

(عالمگیری، جلد 6، صفحہ 448، درمختار جلد 5، صفحہ 676)

3- اور اگر بیٹی کے ساتھ میت کا لڑکا بھی ہو تو بیٹی اور بیٹا دونوں عصبہ بن جائیں گے اور مال بطور عصوبت دونوں میں اس طرح تقسیم ہو گا کہ بیٹے کو بہ نسبت بیٹی کے دوگنا دیا جائے گا۔

(عالمگیری، جلد 6، صفحہ 448، درمختار جلد 5، صفحہ 676)

3- پوتیوں کے حصوں کا بیان

1- اگر میت کے بیٹا بیٹی نہیں صرف ایک پوتی ہے تو اس کو آدھا ملے گا.

(عالمگیری، جلد 6، صفحہ 448، درمختار جلد 5، صفحہ 676)

2- اگر میت کا بیٹا بیٹی نہیں ہے دو پوتیاں ہیں یا دو سے زائد تو وہ دو تہائی میں شریک ہوں گی۔

(عالمگیری، جلد 6، صفحہ 448، درمختار جلد 5، صفحہ 676)

3- اگر میت کی ایک بیٹی ہے تو پوتی ایک ہو یا ایک سے زائد وہ سب کی سب چھٹے حصے میں شریک ہوں گی تاکہ لڑکیوں کا حصہ دو تہائی پورا ہو جائے اس سے زائد نہ ہو کیونکہ قرآن کریم میں لڑکیوں کا حصہ دو تہائی سے زائد کسی صورت میں نہیں ہے۔ اب آدھا تو حقیقی بیٹی نے قوت قرابت کی وجہ سے لے لیا تو صرف چھٹا حصہ ہی باقی رہا جو پوتیوں کو مل جائے گا۔

(شریفیہ، صفحہ 34، عالمگیری، جلد 6، صفحہ 448، درمختار جلد 5، صفحہ 676)

4- پوتیاں میت کی دو حقیقی بیٹیوں کے ہوتے ہوئے محروم ہو جائیں گی بشرطیکہ میت کا کوئی پوتا، پرپوتا (نیچے تک) موجود نہ ہو۔

(عالمگیری، جلد 6، صفحہ 448، درمختار جلد 5، صفحہ 676)

5- اگر پوتیوں کے ساتھ میت کی دو حقیقی بیٹیاں بھی ہوں اور پوتا یا پرپوتا (نیچے تک) ہو تو پوتیاں، پوتے یا پرپوتے کے ساتھ عصبہ ہو جائیں گی۔

(عالمگیری، جلد 6، صفحہ 448، درمختار جلد 5، صفحہ 676)

6- پوتیوں کے ساتھ اگر میت کا بیٹا ہو تو پوتیاں محروم ہو جائیں گی۔

(عالمگیری، جلد 6، صفحہ 448، درمختار جلد 5، صفحہ 676)

4- حقیقی بہنوں کے حصّوں کا بیان

1- اگر بہن ایک ہے تو اسے آدھا ملے گا۔

(عالمگیری، جلد 6، صفحہ 448، درمختار جلد 5، صفحہ 676)

2- اگر بہنیں دو یا دو سے زائد ہیں تو وہ دو تہائی میں شریک ہوں گی۔

(عالمگیری، جلد 6، صفحہ 448، درمختار جلد 5، صفحہ 676)

3- اگر میت کی بہنوں کے ساتھ میت کا کوئی بھائی بھی ہو تو وہ اس کے ساتھ مل کر عصبہ ہو جائیں گی اور تقسیم مال "لِلذَّکَرِمِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ” کی بنیاد پر ہو گی یعنی مرد کو دو عورتوں کے برابر حصہ ملے گا۔

(عالمگیری، جلد 6، صفحہ 448، درمختار جلد 5، صفحہ 676)

4- اگر بہنوں کے ساتھ میت کی کوئی بیٹی، پوتی یا پرپوتی (نیچے تک) ہو تو اب بہن عصبہ بن جائے گی یعنی جو کچھ باقی بچے گا وہ لے گی، کیونکہ حدیث میں فرمایا :

’’بہنوں کو بیٹیوں کے ساتھ عصبہ بناؤ۔‘‘

(درمختار جلد 5، صفحہ 676، بحرالرائق، تبیین)

5- باپ شریک بہنوں کے حصّوں کا بیان

1- اگر باپ شریک بہن ایک ہو اور حقیقی بہن کوئی نہ ہو تو اُسے آدھا ملے گا۔

(عالمگیری، جلد 6، صفحہ 450، درمختار جلد 5، صفحہ 676)

2- اگر دو یا دو سے زائد باپ شریک بہنیں ہوں تو وہ دو تہائی میں شریک ہوں گی۔

(عالمگیری، جلد 6، صفحہ 450، درمختار جلد 5، صفحہ 676)

3- اگر میت کی باپ شریک بہن یا بہنوں کے ساتھ ایک حقیقی بہن ہو تو باپ شریک بہن یا بہنوں کو صرف چھٹا تَکْمِلَۃٌ لِلثُّلُثَیْنِ (دوتہائی کو پورا کرنے کے لئے) ملے گا۔

(عالمگیری، جلد 6، صفحہ 450، درمختار جلد 5، صفحہ 676)

4- اگر باپ شریک بہن کے ساتھ میت کی دو حقیقی بہنیں ہوں تو اس کو کچھ نہ ملے گا اس لئے کہ دو تہائی جو زائد سے زائد بہنوں کا حصہ تھا وہ پورا ہو چکا۔

(عالمگیری، جلد 6، صفحہ 450، درمختار جلد 5، صفحہ 676)

5- اگر باپ شریک بہن کے ساتھ میت کی دو حقیقی بہنیں ہوں اور باپ شریک بھائی بھی ہو تو حقیقی بہنوں کے حصہ کے بعد جو کچھ بچے گا وہ ان کے درمیان "لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ” کی بنیاد پر منقسم ہوگا۔

(بزازیہ علی عالمگیری، جلد 6، صفحہ 404، عالمگیری، جلد 6، صفحہ 450، درمختار جلد 5، صفحہ 676)

6- اگر باپ شریک بہنوں کے ساتھ میت کی بیٹیاں یا پوتیاں (نیچے تک) ہوں تو یہ بہنیں ان کے ساتھ عصبہ ہو جائیں گی۔

(عالمگیری، جلد 6، صفحہ 450، درمختار جلد 5، صفحہ 676)

7- حقیقی بھائی بہن ہوں یا باپ شریک سب کے سب بیٹے یا پوتے (نیچے تک) اور باپ کے ہوتے ہوئے بالاتفاق محروم رہتے ہیں اور امام ابو حنیفہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے نزدیک دادا کے ہوتے ہوئے بھی محروم ہو جاتے ہیں اور فتویٰ اسی پر ہے۔

(عالمگیری، جلد 6، صفحہ 450، درمختار جلد 5، صفحہ 676)

8- باپ شریک بھائی یا بہن، حقیقی بھائی کے ہوتے ہوئے محروم ہو جاتے ہیں۔

(عالمگیری، جلد 6، صفحہ 450، درمختار جلد 5، صفحہ 676)

6- ماں شریک بہنوں کے حصوں کا بیان

1- اگر ماں شریک بہن صرف ایک ہے تو اسے چھٹا حصہ ملے گا۔

(عالمگیری، جلد 6، صفحہ 448)

2- اگر ماں شریک بھائی یا بہن دو یا دوسے زائد ہوں تو وہ سب ایک تہائی میں شریک ہو جائیں گے اور ان بھائی بہنوں کو برابر حصہ ملے گا۔

(سراجی، صفحہ 7)

3- شریک بھائی یا بہن میت کے بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی (نیچے تک) باپ یا دادا کے ہوتے ہوئے محروم ہو جائیں گے۔

(عالمگیری، جلد 6، صفحہ 450)

7- ماں کے حصوں کا بیان

1- اگر میت کی ماں کے ساتھ میت کا کوئی بیٹا یا بیٹی یا پوتا پوتی ہو تو ماں کو چھٹا حصہ ملے گا۔

(عالمگیری، جلد 6، صفحہ 449، درمختار جلد 5، صفحہ 539)

2- اگر میت کی ماں کے ساتھ میت کے دو بھائی بہن ہوں خواہ وہ حقیقی ہوں، باپ شریک ہوں یا ماں شریک ہوں تو ماں کو اس صورت میں بھی چھٹا حصہ ملے گا۔

(عالمگیری، جلد 6، صفحہ 449، درمختار جلد 5، صفحہ 675)

3- اگر ماں کے ساتھ میت کے مذکورہ رشتہ دار نہ ہوں تو ماں کو کُل مال کا تہائی حصہ ملے گا۔

(عالمگیری، جلد 6، صفحہ 449)

4- اگر ماں کے ساتھ شوہر اور بیوی میں سے بھی کوئی ایک ہو تو پہلے شوہر یا بیوی کا حصہ دیا جائے گا پھر جو بچے گا اس میں سے ایک تہائی ماں کو دیا جائے گا اور یہ صرف دو صورتوں میں ہے۔

(عالمگیری، جلد 6، صفحہ 449، درمختار جلد 5، صفحہ 675)

5- اگر مذکورہ صورتوں میں بجائے باپ کے دادا ہو تو ماں کو کل مال کا تہائی ملے گا۔

(عالمگیری، جلد 6، صفحہ 450)

8- دادی کے حصوں کا بیان

1- جدہ صحیحہ جس کا بیان ہو چکا ہے اس کو چھٹا حصہ ملے گا۔ دادیاں اور نانیاں ایک سے زائد ہوں اور سب درجے میں برابر ہوں تو وہ بھی چھٹے حصے میں شریک ہوں گی۔

(شریفیہ صفحہ 41، عالمگیری، جلد 6، صفحہ 450، درمختار جلد 5، صفحہ 675)

2- اگر دادی و نانی کے ساتھ میت کی ماں بھی ہو تو دادی و نانی دونوں محروم ہو جائیں گی۔

(عالمگیری، جلد 6، صفحہ 450، درمختار جلد 5، صفحہ 676)

3- وہ دادیاں جو باپ کی طرف سے ہوں وہ باپ کے ہوتے ہوئے بھی محروم ہو جائیں گی۔

(شریفیہ صفحہ 42، عالمگیری، جلد 6، صفحہ 450، درمختار جلد 5، صفحہ 676)

4- وہ دادیاں جو باپ کی طرف سے ہوں اور دادا سے اوپر ہوں وہ دادا کے ہوتے ہوئے ساقط ہو جائیں گی لیکن باپ کی ماں ساقط نہ ہو گی کیونکہ اس کی رشتہ داری دادا کے واسطے سے نہیں۔

(درمختار جلد 5، صفحہ 676)

5- قریب والی دادی و نانی، دور والی دادی اور نانی کو محروم کر دے گی۔

نوٹ :

یہ تمام حصے بہارشریعت، جلد 3، حصہ 20 سے نقل کیے گئے ہیں، تفصیل کے لئے وہاں رجوع کیجیے۔

واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم

ابواسیدعبیدرضامدنی رئیس مرکزی دارالافتاء اہلسنت عیسیٰ خیل

کتـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــبہ 

1 thought on “وراثت میں سے عورتوں کے حصے قرآن و حدیث سے”

Leave a Reply