دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2109
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
کیاعورت اپنے شوہر کے انتقال کے بعد جیٹھ سے نکاح کرسکتی ہے؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
7,295
سوال (Question):
کیاعورت اپنے شوہر کے انتقال کے بعد جیٹھ سے نکاح کرسکتی ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کیاعورت اپنے شوہر کے انتقال کے بعد جیٹھ سے نکاح کرسکتی ہے؟
ایک شا دی شدہ عورت شو ہر کے انتقال کے بعد اپنے شوہر کے بڑے بھائی سے نکاح کر نا چا ہتی ہے ؟ شرعی حکم کیا ہے ؟ سائل :- محمد ارشاد برکاتی کُشی نگر یو پی الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ قرآنِ مقدس نے ان عورتوں کا بیان فرمایا جن سے نکاح حرام ہے اور پھر ارشاد فرمایا: “وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَٰلِكُمْ ۔” (سورہ نساء: آیت نمبر٢۴) یعنی: ان مذکورہ عورتوں کے سوا جو رہیں وہ تمھیں حلال ہیں۔ اور ان محرمات میں بھائی کی بیوی کا ذکر نہیں ہے ، اس لیےعورت اپنے شوہر کے انتقال کے بعد عدتِ وفات گزارنے کے بعد اپنے شوہر کے بڑے بھائی یعنی اپنے جیٹھ کے ساتھ نکاح کرسکتی ہے، بشرطے کہ رضاعت وغیرہ کوئی وجہِ حرمت نہ پائی جاتی ہو۔ امام اہلِ سنت مجدد دین وملت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “بعدعدت جیٹھ سے نکاح جائز ہے جب کہ کوئی مانع مثل رضاعت یا مصاہرت یا جمعِ محارم نہ ہو” (فتاوی رضویہ ج۵ ص٢٠٠ ) یوں ہی اگر رضاعت وغیرہ کوئی وجہِ حرمت نہ ہو تو آدمی چچا کے انتقال کے بعد چچی سے ، ماموں کے انتقال کے بعد ممانی سے نکاح کرسکتا ہے۔اسی طرح عورت اپنی خالہ کے انتقال کے بعد خالو سے اور پھوپھی کی انتقال کے بعد پھوپھا سے نکاح کرسکتی ہے ۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ١٢/جمادی الآخرہ ١۴۴٣ھ//١٦/جنوری ٢٠٢٢ء
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat