بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2394 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کوئی یہ کہے کہ دعا کرو رسول اللہﷺ قبول کر لیں گے تو اس کا کیا حکم ہے؟
سوال : کوئی یہ کہے کہ دعا کرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبول کر لیں گے تو اس کا کیا حکم ہے؟ اسے کیا سمجھنا چاہیے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــ دعا اللہ قبول کرتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش سے اللہ ضرور قبول فرماتا ہے ۔ دعا کا معنی ہے مانگنا، اللہ سے مانگنے کو دعا کہتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگنے کو استغاثہ اور مدد چاہنا کہتے ہیں ۔ قائل کی مراد یہ ہو سکتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگو تمہاری مراد پوری ہو سکتی ہے ۔ مختصر یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دعا کا لفظ نہیں بولنا چاہیے بلکہ آپ سے مانگنے کا لفظ بولنا چاہیے، قائل آئندہ احتیاط کرے۔ واللہ تعالی اعلم کتبـــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ