بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2145 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
کفار اپنے مردوں کی روٹی کرتے ہیں اس میں جانا کیسا ہے ؟
سوال : کافر اپنے مذہب کے اعتبار سے اپنے مردوں کی روٹی کرتا ہے اور اس میں مسلمانوں کو بھی کھانا کھلا رہا ہے تو اس میں مسلمانوں کو اس کے یہاں کھانے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ جبکہ کھانا وغیرہ سب مسلم کے برتن میں مسلم باورچی نے بنایا ہو؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ کفار کی دعوت میں شرکت کرنا شرعاً ممنوع اور عرفا نہایت قبیح ہے. حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں ” مسلمان کو مطلقاً کافروں سے اجتناب چاہیے نہ کہ ان کفار سے اتنا خلط کہ ان کی دعوت میں شرکت ہو جن کے یہاں جانا اور کھانا بھی عرفا نہایت قبیح ہے. فتاویٰ امجدیہ جلد چہارم صفحہ 148 واللہ تعالی اعلم ۔ کتبـــــــــــہ : مفتی رضی الدین احـــــمد القادری الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ