دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #525
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
قسطوں (Installments) پر چیز مہنگی بیچنا
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: August 12, 2026
0
5,673
سوال (Question):
نقد موٹرسائیکل 1 لاکھ کی ہے اور قسطوں پر ڈیڑھ لاکھ کی۔ کیا اس طرح بیچنا اور خریدنا جائز ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
قسطوں پر چیز کو نقد کے مقابلے میں زیادہ قیمت پر بیچنا شرعاً جائز ہے، یہ سود نہیں بلکہ تجارت ہے۔ لیکن اس کے جائز ہونے کی شرط یہ ہے کہ سودا طے کرتے وقت ایک قیمت مقرر کر لی جائے (مثلاً ڈیڑھ لاکھ)، اور بعد میں قسط لیٹ ہونے پر کوئی اضافی جرمانہ (Late surcharge) نہ لگایا جائے۔ جرمانہ لگانا سود اور حرام ہے۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat