زید کا قول ” یا اللہ یہ جو سامنے شیرینی ہے اس کا ثواب سب سے پہلے تیری بارگاہ میں نذر ہے اس کو قبول فرما” غلط ہے کیونکہ اللہ تعالی غنی مطلق ہے، بندے کا اپنے کسی عمل کا ثواب رب العالمین کو نذر کرنا محض جہالت ہے۔ زید کو یہ کہنا چاہیے کہ یا اللہ جو کچھ قرآن پاک سے تلاوت کی گئی اور یہ جو سامنے شیرینی وغیرہ ہے اس کو شرف قبولیت عطا فرما بعدہ اس کا ثواب جملہ انبیاء کرام وصحابہ واولیا وغیرھم کی بارگاہ میں نذر ہے قبول فرما۔
اعلی حضرت امام اہل سنت علیہ الرحمۃ والرضوان اسی طرح کے سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں: "کسی عمل کا ثواب مولی تعالی کی نذر کرنا محض جہالت ہے، وہ غنی مطلق ہے”(فتاوی رضویہ ج ۲۶ ص ۶۰۹/رضا فاؤنڈیشن لاہور)
۹/جمادی الاولی ۱۴۴۷ھ مطابق ۱/نومبر ۲۰۲۵ء
الجواب صحیح
محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی