بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-461 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
قرآنی آیات والے لاکٹ پہننا جائز ہے، لیکن اس میں بے ادبی کا شدید خطرہ ہوتا ہے۔ واش روم جاتے وقت یا ناپاکی (غسل کی حاجت) کی حالت میں ایسے لاکٹ کو اتارنا یا کپڑوں کے اندر چھپانا ضروری ہے تاکہ قرآنی آیات کی بے حرمتی نہ ہو۔ اگر احتیاط مشکل ہو تو پہننے سے گریز کرنا بہتر ہے۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ