بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-504 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
غیبت ایک کبیرہ گناہ ہے (اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا)۔ چونکہ یہ حقوق العباد میں سے ہے، اس لیے صرف اللہ سے توبہ کافی نہیں۔ اگر جس کی غیبت کی اسے علم ہو گیا ہے، تو اس سے معافی مانگنا فرض ہے۔ اور اگر اسے علم نہیں ہوا تو اسے بتائے بغیر اللہ سے توبہ کرے، اور جس مجلس میں غیبت کی تھی وہیں اس شخص کی تعریف کرے، اور اس کے لیے دعائے مغفرت کرے۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ