لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
quadrisociety@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
20 اکتوبر 2026

کسی پر غلط تہمت لگانا ،گالیاں دینا اور دل آزاری کرنا کیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید اور بکر دونوں حقیقی بھائی ہیں۔
زید کی لڑکی (نرگس فاطمہ) کا تعلق ایک لڑکے (طارق)سے تقریبا بارہ پندرہ سال سے تھا ان دونوں کے درمیان اتنی گہری دوستی ہو گئی کہ دونوں نے آپس میں یہ وعدہ ومعاہدہ کر لیا کہ ہم لوگ آپس میں شادی کریں گے کہیں دوسری جگہ شادی نہیں کریں گے۔ زید کی لڑکی مدرسۃ البنات میں پڑھتی تھی جب وہ عالمہ ہو گئی تو اس کا کہنا تھا کہ میں بھاگ کر شادی نہیں کروں گی ورنہ بہت بدنامی ہوگی کہ عالمہ ہو کر بھاگ کر شادی کی ہے۔ لیکن اس کا باپ زید کسی طرح بھی اس لڑکے سے شادی کرنے کے لیے تیار نہیں ہوا۔ انتظار کی گھڑیاں روز بروز تلخیوں کے ساتھ گزرتی گئیں زید کا بھائی بکر عالم دین ہے وہ پوری فیملی کے ساتھ باہر ایک مدرسے میں پڑھاتا تھا اسے جب جب اس لڑکی کی نازیبا حرکات و سکنات کے متعلق معلوم ہوتا تو اپنے چھوٹے بھائی زید کو بذریعہ فون تنبیہ کرتا۔ لیکن وہ ان کی باتوں کو سن کر ان سنی کر دیتا تھا۔ اور اس کی طرف کچھ بھی توجہ نہیں دیتا تھا۔ بکر جب مدرسے سے گھر آیا تو یہاں آنے کے بعد بھی کئی دنوں تک اس کے گھر جا کر تنہائی میں اسے سمجھایا پھر بھی کچھ اثر نہیں ہوا۔ بکر نے یہاں تک اس سے کہا کہ حالات بہت نازک ہیں اگر کہیں معاملہ خراب ہوا تو کافی بدنامی ہوگی اس لیے میرا مشورہ یہ ہے کہ اب پڑھائی بند کرو اور جتنا جلد ہو سکے کہیں شادی کر دو اس لیے کہ صورت حال کے پیش نظر درجہ عالیہ تک پڑھانا مناسب نہیں ہے۔ روز بروز حالات بد سے بد ہوتے جا رہے ہیں۔ جتنی ضرورت تھی اتنا پڑھ لی اس کا جواب اس نے یہ دیا کہ پڑھائی کیوں بند کروں میری بیٹی ایسا نہیں کرے گی تو انہوں نے کہا کہ کیا تمہاری بیٹی فرشتہ ہے؟ بکر نے حتی الامکان سمجھانے کی کوشش کی مختلف جگہوں کے حالات و واقعات سے روشناش کرایا لیکن اس نے اس کی نصیحتوں پر ذرہ برابر بھی عمل نہیں کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب اس کی لڑکی بالکل نا امید ہو گئی کہ میرا باپ اس لڑکے سے شادی نہیں کرے گا تو اس نے لڑکے کو فون کر کے بلایا رات کے سناٹے میں اپنے گھر سے فرار ہو گئی اور اس سے نکاح کر لی۔
یہ خبر پوری بستی میں پھیل گئی لوگ آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگے تو زید نے اپنی عزت پر پردہ ڈالنے کے لیے اپنے بھائی بکر کو ہی پھنسایا جنہوں نے زید کے ساتھ ہمدردی کی اور اسے ذلت سے بچانے کی بھرپور کوشش کی اسی پر جھوٹی تہمت لگائی کہ انہوں نے میری بیٹی کا نکاح تلوار کی نوک پر کروایا۔ یعنی نکاح ڈرا دھمکا کر کرایا گیا ہے۔
اتنا ہی نہیں زید نے بکر کو گندی گندی گالیاں دینا شروع کر دیا بکر جب کہ اس کا سگا بھائی ہے اس کے ساتھ ماں کا رشتہ جوڑ کر اپنی ہی مرحومہ ماں کو نہایت قبیح گالی دی اور کہا کہ یہ عالم نہیں بلکہ یہ تو سور ہے بکر نے اس کا یہ جملہ اپنے کان سے سنا ہے۔
اس واقعہ سے پیشتر زید نے اپنے بھائی بکر کو فاتحہ کے لیے اپنے گھر بلایا تھا بعد فاتحہ کہا کہ کھانا کھا لیجئے اس دن جو اس نے کھانا کھلایا تو اس کا احسان بھی جتانا شروع کر دیاکہ بھوکا مر رہا تھا تو میں نے کھانا کھلایا۔
اس کی کن کن حرکتوں کو میں بیان کروں؟
المختصر یہ کہ دل آزاری اس کا کام ہے گھر میں سبھی لوگ اس کے حرکتوں سے نالاں ہیں۔
لہذا حضور والا سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ مذکورہ بالا تحریر کی روشنی میں زید کے لیے از روئے شرع کیا حکم ہے؟ جواب بہت ہی واضح اور باتفصیل عنایت فرمائیں تاکہ لوگوں کی سمجھ میں بآسانی آجائے۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

کسی پر غلط تہمت لگانا ،گالیاں دینا اور دل آزاری کرنا کیسا ہے ؟

صورۃ مسولہ میں تہمت لگانا، احسان جتانا، گالیاں دینا اور کسی مسلمان کی دل آزاری کرنا شرعا سخت ناجائز و حرام ہے۔
جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے۔
*والذین یؤذون المؤمنین والمؤمنت بغیر مااکتسبوا فقد احتملوا بھتانا واثما مبینا*۔(سورہ الاحزاب آیت ۵۸) ترجمہ: اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں۔ انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا۔
(کنز الایمان)
اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا
یاایھا الذین آمنوا لا تبطلوا صدقتکم بالمن والاذی(سورہ البقرہ آیت ۲۶۴)
ترجمہ: اے ایمان والو! اپنے صدقے باطل نہ کرو احسان رکھ کر اور ایذا دے کر.( کنز الایمان) اور حدیث شریف میں ہے۔
ثلاثہ لا یدخلون الجنہ العاق لوالدیہ والمد من الخمر والمنان*۔(الترغیب ج۳/ص۳۲۷)
یعنی تین قسم کے لوگ جنت میں نہیں جائیں گے والدین کا نافرمان شرابی اور احسان جتانے والا
اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا *سباب المسلم فسوق* (الصحیح البخاری ج۱/ص۱۲)
یعنی کسی مسلمان کو گالی دینا گناہ کبیرہ ہے۔
اور فرمایا
*من اذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اللہ*۔(المعجم الکبیر ج۸ص۲۳)
یعنی جس نے کسی مسلمان کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے اذیت دی گویا اس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت دی۔
لہذا بر صدق مستفتی زید اپنے بھائی بکر کو گالیاں دینے، اس پر جھوٹی تہمت لگانے، احسان جتانے اور اس کی دل آزاری کرنے کی وجہ سے گناہ کبیرہ کے مرتکب، سخت گنہگار مستحق عذاب نار، حقوق اللہ اور وحقوق العباد میں گرفتار ہوا۔ پس زید پر واجب ہے کہ اعلانیہ توبہ و استغفار کرے اور بکر سے معافی مانگے اور آئندہ ایسے افعال قبیحہ سے اجتناب و احتراز کرنےکا پختہ وعدہ کرے۔
نیز زید کو چاہیے کہ تمام فرائض و واجبات کو ان کے وقتوں پر ادا کرے اور کثرت سے سنن و نوافل اور صدقات و خیرات کرے کہ نیکیاں قبول توبہ میں معاون ہوتی ہے۔
۲۹/ ربیع الثانی ۱۴۴۸/ ۱۱اکتوبر ۲۰۲۶ بروز اتوار

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: الفقیر محمد مجیب اللہ الرضوی عفی عنہ خادم التدریس والافتاء مدرسہ غوثیہ رضویہ ڈالٹن گنج ضلع بلاموں
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی
فتویٰ ریفرنس: MW-3110 تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

وعید وگناہ