کسی پر غلط تہمت لگانا ،گالیاں دینا اور دل آزاری کرنا کیسا ہے ؟
صورۃ مسولہ میں تہمت لگانا، احسان جتانا، گالیاں دینا اور کسی مسلمان کی دل آزاری کرنا شرعا سخت ناجائز و حرام ہے۔
جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے۔
*والذین یؤذون المؤمنین والمؤمنت بغیر مااکتسبوا فقد احتملوا بھتانا واثما مبینا*۔(سورہ الاحزاب آیت ۵۸) ترجمہ: اور جو ایمان والے مردوں اور عورتوں کو بے کئے ستاتے ہیں۔ انہوں نے بہتان اور کھلا گناہ اپنے سر لیا۔
(کنز الایمان)
اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا
یاایھا الذین آمنوا لا تبطلوا صدقتکم بالمن والاذی(سورہ البقرہ آیت ۲۶۴)
ترجمہ: اے ایمان والو! اپنے صدقے باطل نہ کرو احسان رکھ کر اور ایذا دے کر.( کنز الایمان) اور حدیث شریف میں ہے۔
ثلاثہ لا یدخلون الجنہ العاق لوالدیہ والمد من الخمر والمنان*۔(الترغیب ج۳/ص۳۲۷)
یعنی تین قسم کے لوگ جنت میں نہیں جائیں گے والدین کا نافرمان شرابی اور احسان جتانے والا
اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا *سباب المسلم فسوق* (الصحیح البخاری ج۱/ص۱۲)
یعنی کسی مسلمان کو گالی دینا گناہ کبیرہ ہے۔
اور فرمایا
*من اذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اللہ*۔(المعجم الکبیر ج۸ص۲۳)
یعنی جس نے کسی مسلمان کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے اذیت دی گویا اس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت دی۔
لہذا بر صدق مستفتی زید اپنے بھائی بکر کو گالیاں دینے، اس پر جھوٹی تہمت لگانے، احسان جتانے اور اس کی دل آزاری کرنے کی وجہ سے گناہ کبیرہ کے مرتکب، سخت گنہگار مستحق عذاب نار، حقوق اللہ اور وحقوق العباد میں گرفتار ہوا۔ پس زید پر واجب ہے کہ اعلانیہ توبہ و استغفار کرے اور بکر سے معافی مانگے اور آئندہ ایسے افعال قبیحہ سے اجتناب و احتراز کرنےکا پختہ وعدہ کرے۔
نیز زید کو چاہیے کہ تمام فرائض و واجبات کو ان کے وقتوں پر ادا کرے اور کثرت سے سنن و نوافل اور صدقات و خیرات کرے کہ نیکیاں قبول توبہ میں معاون ہوتی ہے۔
۲۹/ ربیع الثانی ۱۴۴۸/ ۱۱اکتوبر ۲۰۲۶ بروز اتوار