دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2152
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
چرایا ہوا موبائل بیچنا اور خریدنا کیسا ہے ؟ / چرایا ہوا سامان خریدنا اور بیچنا؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
12,896
سوال (Question):
چرایا ہوا موبائل بیچنا اور خریدنا کیسا ہے ؟ / چرایا ہوا سامان خریدنا اور بیچنا؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
چرایا ہوا موبائل بیچنا اور خریدنا کیسا ہے ؟
الجوابـــــــــــــــــــــــ موبائل کی کثرت استعمال نے موبائل چوروں کی تعداد میں بھی اضافہ کردیا ہے ۔ اگر خریدار کو معلوم ہوجائے کہ یہ موبائل چرایا ہوا ہے تو اسے ہرگز نہ خریدے، کیونکہ چوری کا مال جان بوجھ کر خریدنا حرام ہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی فرماتے ہیں: ” چوری کا مال دانستہ خریدنا حرام ہے ، بلکہ اگر معلوم نہ ہو مظنون ہو جب بھی حرام ہے۔ ” آج کل موبائل چور اور موبائل دکاندار کے درمیان پہلے سے ساٹھ گانٹھ رہتی ہے ۔ چور موبائل چرا کر دکاندار کو دیتا ہے اور دکاندار سے فروخت کرتاہے ۔ مسلم دکانداروں کو موبائل چوروں سے موبائل خرید کر اپنی دکان میں ہرگز نہیں بیچنا چاہیے۔ جس دکاندار کے بارے میں تحقیق سے معلوم ہوجائے کہ وہ چوری کا موبائل بیچتا ہے، ایسے دکاندار سے چرایا ہوا موبائل خریدنا جائز نہیں۔ حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ” اگر بائع (بیچنے والا) ایسا شخص ہے کہ حلال و حرام یعنی چوری وغصب سب ہی طرح کی چیزیں بیچتا ہے تو احتیاط یہ ہے کہ دریافت کرلے۔ حلال ہو تو خریدے ،ورنہ جائز نہیں ۔” چوری کا موبائل جس طرح خریدنا حرام ہے، اسی طرح اسے فروخت کرنا یا فروخت کرنے کا کاروبار کرنا بھی حرام ہے۔ ماخوذ از موبائل فون کے ضروری مسائل تصنیف علامہ طفیل احمد مصباحی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat