بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1928 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
وضو کے لیے مسواک کرنا سنت مؤکدہ ہے یا غیر مؤکدہ؟
الجوابــــــــــــــــ ہر نماز کیلئے وضو کرتے وقت مسواک کرنا سنت غیر موکدہ مستحبہ ہے جیسا کہ درمختار مع الشامی جلد اول صفحہ 84 میں ہے. ” ویستحب السواک عندنا عند کل صلاۃ و وضوء ” ١ھ. ہاں اگر منہ میں بدبو ہو تو اسے دور کرنے کے لیے مسواک کرنا سنت موکدہ ہے جیسا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری بریلوی قدس سرہٗ تحریرفرماتے ہیں. ” کونہ سنۃ قبلیۃ للوضوء ” بلجملہ بحکم متون واحادیث اظہر وہی مختار بدائع وزیلعی وحلیہ ہے کہ مسواک وضو کی سنت قبلیہ ہے. ہاں سنت موکدہ اس وقت ہے جب کہ منہ میں تغیر ہو. فتاوی رضویہ جلد اول صفحہ 155. واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی محمد عبدالقادر رضوی ناگوری الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ