دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1828
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
ورثاء میں بیوہ اور ایک سگا بھائ ہے وراثت کی تقسیم کیسے ہو گی؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
10,792
سوال (Question):
ورثاء میں بیوہ اور ایک سگا بھائ ہے وراثت کی تقسیم کیسے ہو گی؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
وراثت سے متعلق مسئلہ
ایک آدمی کی وفات ھو گئ اس کی اولاد نہیں ہے ورثاء میں بیوہ ایک سگا بھائ ہے وراثت کی تقسیم کیسے ہو گی؟ جس بےاولاد کی وفات ھوئی وہ تین بھائی تھے ایک بھائ اسکی زندگی میں فوت ھو گیا تھا ایک بھای ابھی حیات ھے تو وراثت کی تقسیم کیسے ھو گی؟ المستفتی : عبید الرحمن قادری کرناٹک الجواب بعون الملک الوھاب بر تقدیر صحت سوال ، وبعد تقدیم مایقدم علی الارث متوفی کی کل جائداد کو چار حصوں میں تقسیم کرکے ایک چوتھائی حصہ [١/٤] متوفی کی بیوی کو دیں کیوں کہ فرمان خداوند قدوس ہے : وَلَـهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْـتُـمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّكُمْ وَلَـدٌ ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَـدٌ فَلَـهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَـرَكْـتُـمْ ۚ (سورہٴ نساء:١٢) اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی حصہ ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو. اور باقی بچے ہوئے تین حصے [3/4] متوفی کے بھائی کو دیں کیوں کہ میت کی اولاد اور باپ دادا کے نہ ہونے کی صورت میں بھائی بطور عصبہ بنفسہ ترکہ سے بچا ہوا مال کا مستحق ہوگا مثلاً اگر متوفی کے ترکہ میں کل ایک سو روپیے(١٠٠) ہیں تو ایک چوتھائی یعنی پچیس روپیے(٢٥) بیوی کو دیں گے اور باقی ماندہ پچہتر روپیےبھائی کےلئے ہیں . واللہ اعلم بالصواب کتبہ : کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ٢٣جمادی الآخرۃ ١٤٤٣ /٢٧جنوری ٢٠٢٢ الجواب صحیح : محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat