دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2089
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
نماز پڑھانے کی تنخواہ لینا جائز ہے یا نہیں؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
10,581
سوال (Question):
نماز پڑھانے کی تنخواہ لینا جائز ہے یا نہیں؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
نماز پڑھانے کی تنخواہ لینا جائز ہے یا نہیں؟
سوال : (1)نماز پڑھانے کی تنخواہ لینا جائز ہے یا نہیں؟ (٢) جس نے اپنی بیوی ہندہ کا مہر ادا نہیں کیا اور نہ بخشوایا مگر اس سے مجامعت کرتا ہے تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں بعض لوگ ہمارے یہاں ایسے شخص کے پیچھے نماز ناجائز بتاتے ہیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ (١) نماز پڑھانا خالص عبادت ہے اور کسی عبادت پر اجرت لینا جائز نہیں. لیکن جس شخص کو امام مقرر کر دیا جائے تو اس کو امامت کے سلسلے میں پابندی وقت کی تنخواہ لینا قطعاً جائز ہے. (٢) ہمارے ملک ہندوستان میں عموما مہر مطلق کا رواج ہے جس کا نچوڑ یہ ہے کہ میاں بیوی میں سے کسی ایک کی موت یا شوہر کے طلاق دینے پر اس مہر کے اصول کرنے کا حق ہے. لہذا اگر کوئی شخص بغیر مہر ادا کئے یا بغیر معاف کرائے اپنی بیوی سے مجامعت یعنی ہمبستری کرتا ہے تو ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے. جن لوگوں نے نماز پڑھنا نا جائز قرار دیا ہے وہ شریعت طاہرہ کے احکام سے جاھل ہیں ان کے ناجائز کہنے کا کوئی اعتبار نہیں . واللہ تعالی اعلم ۔ کتبـــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجــــــدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 269
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat