مہر کی کم سے کم مقدار کتنی از مفتی نظام الدین رضوی

مہر کی کم سے کم مقدار کتنی از مفتی نظام الدین رضوی

سوال : نکاح میں مہر کی صحیح مقدار کیا ہے کچھ لوگ 786 / روپے مہر میں دیتے ہیں اور کچھ لوگ 125 / روپے مہر پر نکاح

کرلیتے ہیں اور کچھ لوگ معاف کروا لیتے ہیں، نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مہر کی مقدار کتنی تھی،

مطلع فرمائیں ؟

الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

مہر کی کم سے کم مقدار اس وقت کے روپے سے 1250 / روپے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی عورت کا مہر یا

کسی غریب سے غریب لڑکی کا مہر 1250 / روپے سے کم نہیں ہونا چاہیے ۔ حتی کہ اگر 1250/روپے سے کم مہر مقرر کیا

گیا تو بھی 1250/ روپے ہی دینے ہوں گے ۔ مہر کی کم سے کم مقدار شرعا دس درہم ہے یعنی 32/ گرام 659/ ملی گرام

چاندی ۔

چاندی کا دام گھٹتا بڑھتا رہتا ہے آج اس وقت اس کا دام 1250/ روپے ہے آئندہ یہ دام زیادہ بھی ہو سکتا ہے اس لیے مہر کی

مقدار روپے میں متعین نہیں کی جاسکتی ،چاندی کا وزن یاد رکھیے اور جب ضرورت ہو تو بازار سے چاندی کا ریٹ معلوم کرکے

کم سے کم اتنی چاندی کا دام متعین کرلیجیے ۔

یہ تو ایک بنیادی مسئلہ ہوا۔ لیکن الگ الگ ہر عورت کا کتنا مہر ہونا چاہیے اس میں ذرا تفصیل ہے جس خاندان کی وہ لڑکی ہو

اس خاندان کی اس جیسی لڑکیوں کا مہر کتنا مقرر ہوتا ہے ، یعنی مہر مثل کتنا ہے وہ مقرر ہونا چاہیے فرض کیجئے اس

خاندان کی ویسی لڑکیوں کا مہر400/ روپے مقرر ہوتا ہے، تو اب جس لڑکی کا نکاح ہوگا اس کا بھی مہر 400/ روپے سے کم

نہیں ہونا چاہیے اس سے زیادہ ہو سکتا ہے ۔

اور اگر اس خاندان کے مناسب شکل و صورت کوئی لڑکی بغیر اپنے ماں باپ کی اجازت کے اپنا نکاح کرلےاور ہزار دو ہزار میں یا

اس سے کم میں کرلے تو فقہا فرماتے ہیں کہ وہ نکاح نہیں ہوگا اسی طرح جب آپ نے اپنی مرضی سے اس کا نکاح کر دیا اور

لڑکی کی مرضی معلوم نہیں کی تو اب لڑکی کو اختیار ہے چاہے وہ نکاح کو قبول کرے یا نہ کرے ۔ اسی طرح اگر باپ نے

کسی ایسی لڑکی کا مہر متعین کیا جو نابالغہ ہے اور وہ مہر مثل سے کم ہے تو فقہا فرماتے ہیں اگر یہ پہلا موقع ہے تو نکاح

صحیح مانا جائے گا، اس کے بعد اگر دوسرے لڑکی کا نکاح بھی ایسے ہی کردیا تو معروف نااہلی کی بنیاد پر یہ نکاح صحیح

نہیں مانا جائے گا، اور حکم دیا جائے گا کہ مہر مثل پر دوبارہ نکاح کیا جائے ۔

والله تعالى اعلم بالصواب

کتبــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبار پور 

Leave a Reply

%d bloggers like this: