صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2131 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

نقد اور ادھار کی قیمت الگ الگ رکھنا جائز ہے یا نہیں ؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 5,916

سوال (Question):

نقد اور ادھار کی قیمت الگ الگ رکھنا جائز ہے یا نہیں ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

نقد اور ادھار کی قیمت الگ الگ رکھنا جائز ہے یا نہیں ؟

سوال : زید جو مال نقد خریدنے والوں کو دس روپے میں دیتا ہے وہی مال ادھار خریدنے والوں کو بارہ روپے میں دیتا ہے تو یہ جائز ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا ۔ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ جو مال نقد خریدنے والوں کو دس روپے میں دیتا ہے وہی مال ادھار خریدنے والوں کو دس روپے کی بجائے بارہ، پندرہ یا اس سے زیادہ میں دینا جائز ہے ۔ جیسا کہ اعلی حضرت امام احمد رضا خاں بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں : قرضوں بیچنے میں نقد بیچنے سے دام زائد لینا کوئی مضائقہ نہیں رکھتا یہ باہمی تراضی بائع ومشتری پر ہے ۔ قال اللہ تعالی الا ان تکون تجارۃ ان تراض منکم (فتاوی رضویہ جلد ششم صفحہ ٤٧٢) وھو سبحانہ وتعالیٰ اعلم وعلمہ اتم واحکم ۔ کتبـــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat