بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2136 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
میت کو اٹھانے سے پہلے جو غلہ اکٹھا کرتے ہیں اسے فقیروں میں تقسیم کرنا کیسا ہے ؟
سوال : میت کے اٹھانے سے قبل غلہ اکٹھا کرنا اور اس کو بعد دفن اس وقت کے فقیروں کو تقسیم کرنا اور قبروں کو کھودنے والے غیر مسلم لونیوں کو دینا کیسا ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــ موت کے بعد جو غلہ اکٹھا کیا جاتا ہے عموماً وہ میت کے ایصال ثواب کے لئے ہوتا ہے اور وہ غلہ صدقہ نافلہ ہے جسے ہر مالدار اور فقیر کو لینا جائز ہے. لہذا اس زمانہ کے فقیروں کو مذکورہ غلہ دینا بلاشبہ جائز ہے. البتہ غیر مسلموں کو دینا ہر گز جائز نہیں کہ یہاں کے غیر مسلم حربی ہیں اور کافر حربی پر کچھ بھی صدقہ کرنا جائز نہیں. اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہٗ تحریر فرماتے ہیں بحرالرائق وغیرہ میں تصریح ہے کہ کافر حربی پر کچھ تصدق کرنا اصلا جائز نہیں. ١ھ. ( الملفوظ اول صفحہ 106) واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی اشتیاق احمد الرضوی المصباحی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ