لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

قراءت میں ایسی غلطی ہوئ جس سے معنی فاسد ہو گیے مگر پھر درست کر لیا تو کیا حکم ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

قراءت میں ایسی غلطی ہوئ جس سے معنی فاسد ہو گیے مگر پھر درست کر لیا تو کیا حکم ہے ؟

سوال : حالت نماز میں قرآن کریم پڑھتے ہوئے اگر ایسی غلطی ہوگئی کہ جس سے معنی فاسد ہو گیے مگر پھر خود بخود فورا درست کر لیا یا لقمہ دینے سے اصلاح کیا تو نماز باطل ہو یا صحیح ہوگئی؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــ جبکہ خود بخود درست کر لیا یا مقتدی کے لقمہ دینے سے اصلاح کر لی تو نماز صحیح ہوگئی باطل نہ ہوئی. فتاوی رضویہ جلد سوم صفحہ 414 میں ہے” اگر امام نے ایسی غلطی کی جس سے نماز فاسد ہوگی تو لقمہ دینا فرض ہے نہ دے گا اور اس کی تصحیح نہ ہوگی تو سب کی نماز جاتی رہے گی. وھوسبحانہ و تعالی اعلم کتبــــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 243

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات