صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2191 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

قراءت میں ایسی غلطی ہوئ جس سے معنی فاسد ہو گیے مگر پھر درست کر لیا تو کیا حکم ہے ؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 8,285

سوال (Question):

قراءت میں ایسی غلطی ہوئ جس سے معنی فاسد ہو گیے مگر پھر درست کر لیا تو کیا حکم ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

قراءت میں ایسی غلطی ہوئ جس سے معنی فاسد ہو گیے مگر پھر درست کر لیا تو کیا حکم ہے ؟

سوال : حالت نماز میں قرآن کریم پڑھتے ہوئے اگر ایسی غلطی ہوگئی کہ جس سے معنی فاسد ہو گیے مگر پھر خود بخود فورا درست کر لیا یا لقمہ دینے سے اصلاح کیا تو نماز باطل ہو یا صحیح ہوگئی؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــ جبکہ خود بخود درست کر لیا یا مقتدی کے لقمہ دینے سے اصلاح کر لی تو نماز صحیح ہوگئی باطل نہ ہوئی. فتاوی رضویہ جلد سوم صفحہ 414 میں ہے” اگر امام نے ایسی غلطی کی جس سے نماز فاسد ہوگی تو لقمہ دینا فرض ہے نہ دے گا اور اس کی تصحیح نہ ہوگی تو سب کی نماز جاتی رہے گی. وھوسبحانہ و تعالی اعلم کتبــــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 243

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat