بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2191 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
قراءت میں ایسی غلطی ہوئ جس سے معنی فاسد ہو گیے مگر پھر درست کر لیا تو کیا حکم ہے ؟
سوال : حالت نماز میں قرآن کریم پڑھتے ہوئے اگر ایسی غلطی ہوگئی کہ جس سے معنی فاسد ہو گیے مگر پھر خود بخود فورا درست کر لیا یا لقمہ دینے سے اصلاح کیا تو نماز باطل ہو یا صحیح ہوگئی؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــ جبکہ خود بخود درست کر لیا یا مقتدی کے لقمہ دینے سے اصلاح کر لی تو نماز صحیح ہوگئی باطل نہ ہوئی. فتاوی رضویہ جلد سوم صفحہ 414 میں ہے” اگر امام نے ایسی غلطی کی جس سے نماز فاسد ہوگی تو لقمہ دینا فرض ہے نہ دے گا اور اس کی تصحیح نہ ہوگی تو سب کی نماز جاتی رہے گی. وھوسبحانہ و تعالی اعلم کتبــــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 243
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ