صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2097 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

فی زمانہ بینک میں جمع شدہ اپنی رقم کا نفع لینا جائز ہے یا نہیں ؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 9,627

سوال (Question):

فی زمانہ بینک میں جمع شدہ اپنی رقم کا نفع لینا جائز ہے یا نہیں ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

فی زمانہ بینک میں جمع شدہ اپنی رقم کا نفع لینا جائز ہے یا نہیں ؟

الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــ صورت مستفرہ میں وہ رقم جائز ہے اس کا لینا جائز ہے وہ شرعا سود نہیں کہ سود کے لیے مال کا معصوم ہونا شرط ہے ۔ طحاوی علی الدر اور شامی میں ہے ” شرط بعصمۃ البدلین ” اور ہندوستان کے تمام کفار حربی ہیں اور حربی کا مال حصہ معصوم نہیں بلکہ وہ مباح ہے بشرطیکہ ان کی رضا سے ہو ۔ بدعہدی نہ ہو ۔ لہذا وہ بینک جو خالص غیرمسلموں کے ہیں ان میں روپیہ جمع کرنے پر جو زیادتی ملتی ہے اس کا لینا جائز ہے کہ وہ اپنی خوشی سے دیتے ہیں اور لینے میں اپنی عزت اور آبرو کے لیے کوئی خطرہ بھی نہیں ہے وہ رقم کسی کے سود کہہ دینے سے سود نہ ہوگی اسے اپنے ہر جائز کام میں استعمال کر سکتا ہے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبــــــــــــــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat