بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2409 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
غیر مسلم مکھیا کی دی ہوئی سولر لائٹ مسجد میں لگانا کیسا ہے؟
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ گاؤں کا مکھیا جو کہ ہندو ہے، وہ سرکاری فنڈ سے مسجد میں سولر لائٹ دے رہا ہے تو کیا اس کا استعمال مسجد کے لیے جائز ہے یا ناجائز؟ الجوابـــــــــــــــــــــــ سرکاری فنڈ میں مسلمانوں کا بھی حق ہے اس لیے مکھیا سرکاری فنڈ سے جو سولر لائٹ دے رہا ہے وہ مسلمانوں کا حق ہے، مسلمان اسے اپنا حق سمجھ کر لے لیں پھر اپنی طرف سے مسجد میں لگادیں اس میں کوئی حرج نہیں ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبـــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ