بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1956 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
عورت نے قسم کھا کر کہا کہ میرے شوہر نے نشے کی حالت میں طلاق دی ہے تو کیا حکم ہے ؟
کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ آمنہ خاتون نے اللہ کی قسم کھا کر بیان کیا کہ میرے شوہر نے شراب کے نشے کی حالت میں چار پانچ بارمجھ کو طلاق دی۔ اگر میرا یہ بیان جھوٹا ہو تو غازی میاں کوڑھی اور اندھا کر دیں۔ یہ واقعہ چار سال پہلے کا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آمنہ پر طلاق پڑ گئی اور وہ دوسرا نکاح کر سکتی ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــ اگر آمنہ کا بیان صحیح ہے تو اس پر طلاق مغلظہ پڑگئی ۔ بعد عدت وہ کسی دوسرے سے نکاح کر سکتی ہے۔ فتاوی عالمگیری جلد اول صفحہ 331 میں ہے: طلاق السكران واقع اذا سكر من الخمر او النبيذ هو مذهب اصحابنا رحمهم الله تعالى كذا في المحيط. یعنی اگر کسی نے شراب یا نیند کے نشے کی حالت میں طلاق دی تو ہمارے ائمہ کرام کے نزدیک طلاق پڑ جائے گی ۔ ایسا ہی محیط میں ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ کتبہ: مفتی جلال الدین احمد الامجدی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ