بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2422 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
عورتوں کو منگل سوتر پہننا کیسا ہے؟
الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ اگر یہ زیور کسی علاقے میں غیر مسلم عورتوں کا شعار ہو کہ اس علاقے میں وہی پہنتی ہیں، اور کوئی عورت منگل سوتر پہنتی ہوئی دکھی تو یہ سمجھا جائے کہ وہ غیر مسلم ہے تو اس علاقے میں مسلمہ عورتوں کو منگل سوتر پہننا مکروہ و ناجائز ہے ۔ کہ حدیث میں ہے” من تشبہ بقوم فھو منھم ” کہ جس نے کسی قوم سے مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے ۔ اور جن علاقوں میں یہ غیر مسلم عورتوں کا شعار نہ ہو تو وہاں مسلمان عورتوں کو ایسا زیور پہننا جائز ہے اور اس میں کوئی کراہت نہیں ،کہ زیور بجائے خود مباح ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبـــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ