دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2243
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
شرعی مجبوری میں داڑھی منڈانے کی اجازت ؟ از مفتی نظام الدین رضوی
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
12,879
سوال (Question):
شرعی مجبوری میں داڑھی منڈانے کی اجازت ؟ از مفتی نظام الدین رضوی
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
شرعی مجبوری میں داڑھی منڈانے کی اجازت
سوال : بعض امراض سرجری میں ڈاکٹر چہرے کے بال صاف کرنےکی لازمی ہدایات دیتے ہیں ۔ جدید فن جراحت کے مطابق بال تراشنا یا داڑھی منڈوانا یا چہرے کی سرجری یا منہ کی سرجری میں ضرورت ہو سکتی ہے اس لیے بغیر بال صاف کیے سرجری کرنا ممکن نہیں ۔ چہرے کے بعض جراثیمی بیماریوں مثلا collilitsl, boik ,Abscess وغیرہ میں بھی چہرے کا بال صاف کرنا پڑسکتا ہے ۔ تو کیا اس طرح کی مجبوری میں داڑھی منڈانے کی اجازت ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــ چہرے یا گال یا منہ کی سرجری اگر جمال کے لیے نہ ہو، بلکہ کسی بیماری مثلا کینسر وغیرہ کے لیے ہو اور بغیر داڑھی منڈائے یہ سرجری ممکن نہ ہو یا انفیکشن کا صحیح اندیشہ ہو تو بوجہ مجبوری بقدر ضرورت داڑھی کے بال صاف کرنے کی اجازت ہوگی ۔ داڑھی منڈانا بالاتفاق خلاف سنت ہے مگر ناجائز و گناہ بھی ہے یا نہیں یہ اختلافی مسئلہ ہے ۔ ہمارے فقہائے احناف اسے ناجائز و گناہ قرار دیتے ہیں ۔ اور فقہائے شافعیہ مباح ۔ اس اختلاف کے باعث حرمت میں یک گونہ تخفیف پہلے ہی سے تھی اور اب مجبوری کی صورت میں واضح حرج کے لیے حرمت ہی ختم ہوگئی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبـــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat