بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2163 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
سودی کاروبار میں لکھنے پڑھنے والوں پر کیا حکم ہے ؟
سوال : منشی لوگ جو کہ کچہری میں لکھنے پڑھنے کا کام کرتے اور وہ سود کے کاغذات دیکھتے ہیں کیا ان کو بھی سود کا کاغذ لکھنے میں وہی گناہ ہے جو کہ سود خور کو ہوگا ؟بینواتوجروا الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب بےشک سودی کاغذات لکھنے والے پر اتنا ہی گناہ ہے جتنا کے سود خور پر ہے اور جس طرح سود کا لینا دینا حرام ہے یوں ہی سودی کاغذات کا لکھنا بھی حرام ہے ۔ صحیح حدیث میں ہے "لعن رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم آکل الربوا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء " رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے لعنت فرمائی سود کھانے والے اور سود کھلانے والے اور اس کا کاغذ لکھنے والے اور اس پر گواہیاں کرنے والوں پر اور فرمایا وہ سب برابر ہیں ۔ فتاوی رضویہ جلد سوم صفحہ ٢٢١ ۔ ھذاماعندی والعلم عنداللہ تعالیٰ وسولہ الا علیٰ جل وعلا صلی المولیٰ علیہ وسلم کتبـــــــــــہ: مفتی محمد الیاس خاں سالک غفرلہ
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ