بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2787 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
زکوٰۃ کے لیے فقیرکومالک بناناضروری ہے ۔
سوال : نوٹ بندی کے تقریباًایک سال بعد صندوق میں رکھی ہوئی قدیم کرنسی میں گیارہ ہزارروپیہ ملاجوایک لفافے میں ہےجس کے اوپرزکاۃ لکھاہواہے ۔ا ب جب کہ نوٹ بندی کوایک سال ہوچکے ہیں ۔ اگراس کوباہربنیوں کے وہاں بدلیں تو مقررہ روپے سے کم قیمت ملنے کاامکان ہے توجورقم کم ہوتی ہے اس کی بھرپائی ہمارے ذمے ہے یاشرعاًہم اس سے بری ہیں ۔ کیا ایسی صورت میں زکوٰۃ کے لیے فقیرکومالک بناناضروری ہے ۔ ظاہرہے یہ غلطی سے رہ گیاہے نہ کہ دانستہ ۔ بینک میں تبدیلی کے امکانات اور اس کی دقتوں سے حضرت خوب واقف ہیں۔ المستفتی:محمدظفرالحق ،گھوسی، ضلع مئو،یوپی جواب : زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے فقیرکومالک بنانا ضروری ہے ۔ ساتھ ہی قبضہ دینا ضروری ہے ۔جب زکوٰۃ کی رقم آپ کے پاس رکھی رہی اگرچہ بھول سے سہی ،فقیرکومالک وقابض نہ کیاتوزکوٰہ ہرگزنہیں اداہوئی ۔رائج روپے سے یہ پوری زکوٰہ اداکی جائے ۔بھول کی وجہ سے یہ راحت ملے گی کہ ادائیگی میں تاخیرکاگناہ نہ ہوگا ۔ فرض کیجیے آپ کے ذمے کسی کاقرض ہو جسے اداکرنے کے لیے آپ نے روپے الگ کرکے رکھ لیے ۔ بھول سے ادائیگی میں دیرہوئی ، یہا ںتک کہ ان روپیوں کاچلن جاتارہا تو ظاہر سی بات ہے کہ اس کی وجہ سے قرض معاف نہ ہوگابلکہ رائج روپیوں سے ادائیگی لازم ہوگی ۔ وہی حال یہاں بھی ہے کہ زکوٰۃ بندے کے ذمے اللہ کا قرض ہے ۔ واللہ تعالٰی اعلم ۔Written by Allama Mufti Nizamuddin
Jamia Ashrafia Mubarakpur
مزید مطالعہ کریں ۔ذاتی زمین خریدنے کے لیے مدرسے کاپیسہ استعمال کرنا
حائضہ عورت کاقصیدہ بردہ شریف وغیرہ پڑھنا ۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ