دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2787
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
زکوٰۃ کے لیے فقیرکومالک بناناضروری ہے ۔ زکوۃ کے مسائل
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
13,597
سوال (Question):
زکوٰۃ کے لیے فقیرکومالک بناناضروری ہے ۔ زکوۃ کے مسائل
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
زکوٰۃ کے لیے فقیرکومالک بناناضروری ہے ۔
سوال : نوٹ بندی کے تقریباًایک سال بعد صندوق میں رکھی ہوئی قدیم کرنسی میں گیارہ ہزارروپیہ ملاجوایک لفافے میں ہےجس کے اوپرزکاۃ لکھاہواہے ۔ا ب جب کہ نوٹ بندی کوایک سال ہوچکے ہیں ۔ اگراس کوباہربنیوں کے وہاں بدلیں تو مقررہ روپے سے کم قیمت ملنے کاامکان ہے توجورقم کم ہوتی ہے اس کی بھرپائی ہمارے ذمے ہے یاشرعاًہم اس سے بری ہیں ۔ کیا ایسی صورت میں زکوٰۃ کے لیے فقیرکومالک بناناضروری ہے ۔ ظاہرہے یہ غلطی سے رہ گیاہے نہ کہ دانستہ ۔ بینک میں تبدیلی کے امکانات اور اس کی دقتوں سے حضرت خوب واقف ہیں۔ المستفتی:محمدظفرالحق ،گھوسی، ضلع مئو،یوپی جواب : زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے فقیرکومالک بنانا ضروری ہے ۔ ساتھ ہی قبضہ دینا ضروری ہے ۔جب زکوٰۃ کی رقم آپ کے پاس رکھی رہی اگرچہ بھول سے سہی ،فقیرکومالک وقابض نہ کیاتوزکوٰہ ہرگزنہیں اداہوئی ۔رائج روپے سے یہ پوری زکوٰہ اداکی جائے ۔بھول کی وجہ سے یہ راحت ملے گی کہ ادائیگی میں تاخیرکاگناہ نہ ہوگا ۔ فرض کیجیے آپ کے ذمے کسی کاقرض ہو جسے اداکرنے کے لیے آپ نے روپے الگ کرکے رکھ لیے ۔ بھول سے ادائیگی میں دیرہوئی ، یہا ںتک کہ ان روپیوں کاچلن جاتارہا تو ظاہر سی بات ہے کہ اس کی وجہ سے قرض معاف نہ ہوگابلکہ رائج روپیوں سے ادائیگی لازم ہوگی ۔ وہی حال یہاں بھی ہے کہ زکوٰۃ بندے کے ذمے اللہ کا قرض ہے ۔ واللہ تعالٰی اعلم ۔Written by Allama Mufti Nizamuddin
Jamia Ashrafia Mubarakpur
مزید مطالعہ کریں ۔ذاتی زمین خریدنے کے لیے مدرسے کاپیسہ استعمال کرنا
حائضہ عورت کاقصیدہ بردہ شریف وغیرہ پڑھنا ۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat