بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2208 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
رضاعی ماموں بھانجی سے نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں ؟
سوال : ایک ماں کی دور لڑکیاں ہیں. بڑی لڑکی کا نام ہاجرہ ہے اور چھوٹی کا نام آمنہ ۔ ان دونوں کی ماں کا انتقال ہوگیا آمنہ گود میں تھی تو ہاجرہ نے اپنی بہن کو دودھ پلایا اب آمنہ بالغ ہو گئی اور اس کی شادی بھی ہوگئی اور ایک لڑکی پیدا ہوئی تو آمنہ کی اس لڑکی کا نکاح حاضرہ کے لڑکے کے ساتھ کرنا کیسا ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ صورت مستفسرہ میں آمنہ کی لڑکی کا نکاح ہاجرہ کے لڑکے سے کرنا حرام ہے ہر گز جائز نہیں. اس لئے کہ وہ ایک دوسرے کے رضاعی ماموں بھانجی ہیں اور ماموں بھانجی کا نکاح جیسا کہ نسبا حرام ہے رضاعا بھی حرام ہے ۔ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب ۔ هذا ما عندي والعلم عند الله تعالى ورسوله وجل جلالہ وصل المولى تعالى عليه وسلم كتبــــــــــــــــــــــه : مفتی جلال الدين احمد الامجدي ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 717 کتاب الرضاع
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ