لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
18 ستمبر 2025

داڑھی منڈانا گناہ صغیرہ مگراس پر اصرار گناہ کبیرہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

داڑھی منڈانا گناہ صغیرہ مگراس پر اصرار گناہ کبیرہ ہے ۔

صورت مسئولہ: داڑھی رکھنے یانہ رکھنے پربحث چل رہی تھی ۔ اس پرداڑھی کے متعلق ایک صاحب کا کہنا ہے کہ داڑھی رکھناسنت ہے ۔ لیکن یہ دین کے مسلمات میں سے نہیں ہے ۔ جس نے رکھی اسے ثواب ملے گا،جس نے نہیں رکھی اس پرگناہ نہیں ۔ اس بات پرانہیں قرآن واحادیث صحیحہ سے داڑھی کے واجب ہونے کوثابت کرکے دکھایا گیا ۔ اب صاحب کاکہناہے کہ داڑھی منڈانااگرچہ گناہ ہے لیکن یہ گناہ کبیرہ نہیں ہے ۔ اگرگناہ کبیرہ ہے تو قرآن وحدیث سے ثابت کریں ۔براے کرم رہنمائی فرمائیں ۔ المستفتی:بذریعہ واٹس ایپ حکم شرعی: داڑھی منڈانا گناہ صغیرہ مگراس پر اصرار گناہ کبیرہ داڑھی منڈاناگناہ صغیرہ ہے اوراس پر اصرارگناہ کبیرہ ۔ تین یاتین سے زیادہ بارمنڈاناگناہ پر اصرار ہے ۔ گناہ کبیرہ ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی ممانعت پراجماع ہو ۔  اور یہ مسئلہ اجماعی نہیں جیساکہ کتب شافعیہ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے ۔ ہاں ہمارے مذہب حنفی میں اس کی حرمت پراتفاق ہےجیساکہ فتح القدیر کی عبارت سےعیاں ہوتاہے۔فی الحال میرے ذہن میں جوبات آئی ،اسے لکھ دیا ۔ جولوگ داڑھی منڈاتے ہیں وہ ایسا نہیں کہ ایک بار منڈا کر چھوڑ دیتے ہیں بلکہ وہ اس کی عادت بنالیتے ہیں اوریہ گناہ کبیرہ ہے ۔ لاصغیرۃ مع الاصرار ۔ داڑھی کی شرعی مقدار کم سے کم ایک مشت ہے ۔ جو داڑھی ایک مشت سے کم رکھے وہ گناہ گار ہے ۔ ایک مشت سے کم داڑھی رکھنے والا فاسق معلن ہے ۔ لہذا خصخصی داڑھی رکھنے سے بچنا چاہیے کہ بار بار اس پر اصرار کرنا گناہ کبیرہ ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ مزید مطا لعہ کریں ۔۔۔

حائضہ عورت کاقصیدہ بردہ شریف وغیرہ پڑھنا ۔

ذاتی زمین خریدنے کے لیے مدرسے کاپیسہ استعمال کرنا

Written by > Allama Mufti Nizamuddin Misbahi . Principal Jamia Ashrafia Mubarakpur . Utter paradesh India.  

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
فتویٰ ریفرنس: MW-2788 تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

جائز وناجائز حلال وحرام