لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

جتنی نمازیں قضا تھیں اس سے زیادہ پڑھ لیا تو کیا حکم ہے ؟ / نماز کے مسائل

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

جتنی نمازیں قضا تھیں اس سے زیادہ پڑھ لیا تو کیا حکم ہے ؟

سوال ایک شخص نے قضائے عمری نمازیں جتنی اس کے ذمہ تھیں اس سے زائد پڑھ لی تو کیا اس نے غلط کیا؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــ نہیں، غلط نہیں کیا بلکہ اچھا کیا، اس کی وجہ سے وہ اللہ تعالی کے نزدیک یقینی طور پر بری الذمہ ہو جائے گا ۔ ہاں اگر سب قضا نمازیں ادا ہوگئیں اس کے بعد بھی وہ احتیاطاً ادا کر رہا ہے تو فرض اعتقاد کرکے ادا نہ کرے ۔ بلکہ یوں نیت کرے کہ میرے ذمہ فرض فجر، ظہر، عصر، مغرب یا عشاء نماز بھول چوک سے رہ گئی تو میں نے اس فرض نماز کی ادائیگی کی نیت کی، اس نیت سے نماز پڑھے تاکہ یہ لازم نہ آئے کہ جو چیز فرض نہیں ہے اس کو یہ فرض اعتقاد کرے ۔ کیونکہ غیر فرض کو فرض تسلیم کرنا ناجائز ہے لہذا یہ احتیاط سے نیت کرنا چاہیے ۔ و اللہ تعالی اعلم ۔ کتبــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات