دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2381
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
جتنی نمازیں قضا تھیں اس سے زیادہ پڑھ لیا تو کیا حکم ہے ؟ / نماز کے مسائل
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
5,867
سوال (Question):
جتنی نمازیں قضا تھیں اس سے زیادہ پڑھ لیا تو کیا حکم ہے ؟ / نماز کے مسائل
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
جتنی نمازیں قضا تھیں اس سے زیادہ پڑھ لیا تو کیا حکم ہے ؟
سوال ایک شخص نے قضائے عمری نمازیں جتنی اس کے ذمہ تھیں اس سے زائد پڑھ لی تو کیا اس نے غلط کیا؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــ نہیں، غلط نہیں کیا بلکہ اچھا کیا، اس کی وجہ سے وہ اللہ تعالی کے نزدیک یقینی طور پر بری الذمہ ہو جائے گا ۔ ہاں اگر سب قضا نمازیں ادا ہوگئیں اس کے بعد بھی وہ احتیاطاً ادا کر رہا ہے تو فرض اعتقاد کرکے ادا نہ کرے ۔ بلکہ یوں نیت کرے کہ میرے ذمہ فرض فجر، ظہر، عصر، مغرب یا عشاء نماز بھول چوک سے رہ گئی تو میں نے اس فرض نماز کی ادائیگی کی نیت کی، اس نیت سے نماز پڑھے تاکہ یہ لازم نہ آئے کہ جو چیز فرض نہیں ہے اس کو یہ فرض اعتقاد کرے ۔ کیونکہ غیر فرض کو فرض تسلیم کرنا ناجائز ہے لہذا یہ احتیاط سے نیت کرنا چاہیے ۔ و اللہ تعالی اعلم ۔ کتبــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat