بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2084 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
بینک سے قرض لینے پر جو زائد رقم دینا پڑتی ہے وہ دینا جائز ہے ؟
سوال : اسٹیٹ بینک۔ بڑودہ بینک اور دوسرے بینک میں جو پیسہ جمع کرنے سے سود ملتا ہے وہ لینا جائز ہے یا نہیں؟ اور بینک سے قرض لینے کی صورت میں بینک کو جو زائد رقم دینی پڑتی ہے وہ دینا جائز ہے یا نہیں ؟ تفصلی جواب عنایت فرمائیں الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ جو بینک کہ مسلمانوں کا ہے یا مسلم اور غیر مسلم کا مشترکہ ہے اس میں پیسہ جمع کرنے کے بعد جو نفع ملتا ہے وہ شرعاً سود ہے حرام ہے۔ اور جو بینک کہ خالص کافروں کا ہے اس کا نفع لینا جائز ہے کہ وہ از روۓ شرع سود نہیں ۔ اور بینک سے قرض لے کر اسے زائد رقم دینا ممنوع ہے اگرچہ وہ بینک خالص کافروں کا ہو ۔ ردالمحتار جلد چہارم صفحہ ١٨٨ میں ہے "ان مرادھم من حل الربا والقمار ما اذا حصلت الزیادۃ للمسلم اھ وھوا سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب ۔ کتبـــــــــــــہ: مفتی جلال الدین احمد الامجدی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ