صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2244 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

بینک سے زائد ملنے والی رقم کا حکم از مفتی نظام الدین رضوی

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 13,038

سوال (Question):

بینک سے زائد ملنے والی رقم کا حکم از مفتی نظام الدین رضوی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

بینک سے زائد ملنے والی رقم کا حکم

سوال : زید کا گورنمنٹ بینک میں کھاتا ہے، زید کو بینک سے زائد رقم سود کی شکل میں ملتی ہے ، وہ رقم زید دینی مدرسوں اور غریبوں کو دے سکتاہے کہ نہیں برائے کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ حکومت ہند کے بینکوں میں روپے جمع کرنے پر زائد رقم ملتی ہے وہ سود نہیں بلکہ ایک پاک اور حلال مال ہے ، اسے سود سمجھنا غلط ہے ۔ اس لیے وہ زائد رقم ضرور لے لیں اور اس سے دینی مدارس اور محتاج مسلمانوں کی مدد کریں ، یہ افضل ہے ۔ اور چاہیں تو اپنے نجی امور میں بھی صرف کرسکتے ہیں ۔ مزید دلیل و تحقیق کے لیے ” جدید بینک کاری اور اسلام ” کا مطالعہ کریں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ کتبـــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور 

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat