بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2119 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
باپ دادا کا کیا ہوا نکاح کب لازم ہو جاتا ہے ؟
سوال : زید نے اپنی پہلی لڑکی کا نکاح حالت نابالغی میں ایک نابالغ لڑکے کے ساتھ کئی سال پہلے کر دیا تھا. لڑکا ابھی تک نا بالغ ہے. اور لڑکی بالغ ہو گئی ہے جو اپنے شوہر کے پاس جانے کو تیار نہیں ۔ اب دریافت یہ کرنا ہے کہ زید اس کا دوسرا نکاح پڑھا سکتا ہے یا نہیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــ حالت نابالغی میں باپ یا دادا کا کیا ہوا نکاح اس طرح لازم ہو جاتا ہے کہ لڑکی کسی طرح فسخ نہیں کرسکتی . لہذا صورت مسئولہ میں لڑکی کا دوسرا نکاح کرنا حرام ہے ہر گز ہر گز جائز نہیں. ہاں اگر شوہر مر جائے یا بالغ ہونے کے بعد طلاق دے تو دوسرا نکاح کرسکتی ہے کہ نابالغ کی طلاق واقع نہیں ہوتی. فتاویٰ عالمگیری جلد اول صفحہ 267 میں ہے ” ان زوجھما الاب اوالجد فلا خیار لھما بعد بلوغھما " اور در مختار مع شامی جلد دوم صفحہ ٣٠٨ میں ہے لزم النکاح ولو بغبن فاحش او بغیر کفو ان کان الولی ابا او جدا لم یعرف منھما سوء الاختیار ” اور فتاویٰ عالمگیری جلد اول مصری ٣٣٠ میں ہے” لا یقع طلاق الصبی وان کان یعقل ھکذا فی الفتح القدیر ۔” واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 647
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ