بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2088 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
امام ظہر کی فرض سے پہلے کی چار رکعت سنت پڑھے بغیر امامت کر سکتا ہے یا نہیں؟
الجوابــــــــــــــــــــــــــ بلا عذر چار رکعت سنت پڑھے بغیر ظہر فرض کی امامت کرنا مکروہ ہے. اور بالکل ترک کر دینا یعنی بعد فرض بھی نہ پڑھنے والے کے لیے وعید ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ” من ترک اربعا قبل الظھر لم ینلہ شفاعتی ١ھ” جو شخص ظہر سے پہلے کی چار رکعت سنت چھوڑے وہ میری شفاعت نہ پائے گا. واللہ تعالی اعلم ۔ کتبــــــــــــــــہ :مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 262
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ