دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2236
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
امام صاحب نے ایک آیت کریمہ کو غلط پڑھ کر چھوڑ دیا پھر دوسری جگہ سے پڑھے تو کیا حکم ہے ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
4,045
سوال (Question):
امام صاحب نے ایک آیت کریمہ کو غلط پڑھ کر چھوڑ دیا پھر دوسری جگہ سے پڑھے تو کیا حکم ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
امام صاحب نے ایک آیت کریمہ کو غلط پڑھ کر چھوڑ دیا پھر دوسری جگہ سے پڑھے تو کیا حکم ہے ؟
سوال : امام صاحب نے ایک آیت کریمہ کو غلط پڑھ کر چھوڑ دیا پھر سورہ بقرہ کے آخری دو آیتیں پڑھیں اور آخر میں سجدہ سہو کیا تو نماز ہوئی یا نہیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ امام صاحب نے اگر ایسا غلط پڑھا کہ جس سے معنی فاسد ہوگئے تو اسے چھوڑ کر دوسری آیت کریمہ پڑھنے اور سجدہ سہو کرنے سے بھی نماز نہیں ہوئی اور اگر معنی فاسد نہ ہوئے تھے تو سجدہ سہو کی بھی ضرورت نہیں سب کی نماز ہوگی. لیکن جس مقتدی کی کچھ رکعت چھوٹ گئی تھی اگر وہ امام کے ساتھ سجدہ سہو میں شریک رہا تو فعل لغو میں اتباع کے سبب اس کی نماز باطل ہوگئی. فتاوی قاضی خان میں ہے اذا ظن الامام ان عليه سهوا فسجد للسھو وتابعه المسبوق في ذلك ثم علم ان الامام لم يكن عليه سهوا الا شهران صلاتہ تفسد. و هو تعالى اعلم ۔ كتبـــــــــــــــــــــــه :جلال الدين احمد الامجدي ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 352
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat