لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
quadrisociety@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
12 اگست 2026

پلاسٹک سرجری اور بوٹاکس (Botox) کا شرعی حکم

کیا خوبصورت نظر آنے کے لیے ناک کی پلاسٹک سرجری یا بوٹاکس کروانا جائز ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

محض زیادہ خوبصورت نظر آنے کے لیے (کاسمیٹک وجوہات کی بنا پر) پلاسٹک سرجری، بوٹاکس، یا ہونٹوں کو موٹا کروانا ‘تغییر خلق اللہ’ (اللہ کی تخلیق کو بدلنے) میں آتا ہے اور یہ شرعاً حرام ہے۔ البتہ اگر کسی حادثے کی وجہ سے کوئی عضو کٹ جائے، جل جائے، یا پیدائشی نقص ہو جس سے دیکھنے میں شدید کراہت محسوس ہوتی ہو، تو اسے درست حالت میں لانے کے لیے سرجری کروانا بالکل جائز ہے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
فتویٰ ریفرنس: MW-531 تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

جائز وناجائز حلال وحرام