دعا میں وسیلہ پکڑنے کے تین طریقے بالکل جائز اور ثابت ہیں: 1) اللہ تعالیٰ کے اسماءِ حسنیٰ کا وسیلہ لینا۔ 2) اپنے کسی نیک عمل (جیسے نماز، صدقہ) کا وسیلہ دے کر دعا کرنا۔ 3) انبیاء کرام علیہم السلام اور نیک صالحین (زندہ یا فوت شدہ) کی ذات اور ان کی برکت کا وسیلہ دینا (جیسے ‘یا اللہ اپنے نبی ﷺ کے صدقے میرا کام کر دے’)۔ یہ جمہور اہلسنت کے نزدیک بالکل جائز ہے۔ واللہ اعلم۔
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-506 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا اظہر علیمی
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی
فتویٰ ریفرنس: MW-506
تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن
شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں
اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں: