لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
quadrisociety@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
12 اگست 2026

میت (فوت شدہ) کی طرف سے قربانی کرنا

کیا ہم اپنے مرحوم والدین کی طرف سے قربانی کر سکتے ہیں؟ اس گوشت کا کیا کریں؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

جی ہاں، مرحومین کو ایصالِ ثواب کے لیے ان کی طرف سے نفلی قربانی کرنا بالکل جائز اور باعثِ اجر ہے۔ اگر میت نے وصیت نہیں کی تھی اور آپ نے اپنی خوشی سے کی ہے، تو اس کے گوشت کا حکم عام قربانی جیسا ہے (خود کھائیں، رشتہ داروں اور غریبوں کو بانٹیں)۔ اگر میت کی وصیت پر کی ہے تو سارا گوشت غریبوں میں بانٹنا صدقہ کرنا واجب ہے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
فتویٰ ریفرنس: MW-495 تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

احکام میت