قبر کے پاس یا کسی بھی جگہ کسی برتن میں پانی اس مقصد سے رکھنا کہ اس سے پرندے وغیرہ پئیں گے تو میت کو اس کا ثواب ملے گا یہ جائز ہے اور ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
کسی پیاسے کو پانی پلانا باعث اجر و ثواب وذریعہ نجات ہے۔ حدیث شریف میں ہے: "عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غُفِرَ لِامْرَأَةٍ مُومِسَةٍ مَرَّتْ بِكَلْبٍ عَلَى رَأْسِ رَكِيٍّ يَلْهَثُ كَادَ يَقْتُلُهُ الْعَطَشُ فَنَزَعَتْ خُفَّهَا فَأَوْثَقَتْهُ بِخِمَارِهَا فَنَزَعَتْ لَهُ مِنَ الْمَاءِ فَغُفِرَ لَهَا بِذَلِكَ» . قِيلَ: إِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ أَجْرًا؟ قَالَ: «فِي كُلِّ ذَاتِ كبد رطبَة أجر»
روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےکہ اس زانیہ عورت کی مغفرت ہوگئی جو ایک کتے پر گزری کہ ایک کنوئیں کے کنارے ہانپ رہا تھا قریب تھا کہ پیاس اسے قتل کردیتی اس نے اپنا موزہ اتارا اسے اپنے دوپٹے سے باندھا اس طرح پانی نکالا اس وجہ سے بخش دی گئی عرض کیا گیا کیا ہم کو جانوروں میں بھی ثواب ہے فرمایا ہر تر کلیجے والے میں ثواب ہے۔(مشكوة المصابيح/كتاب الزكاة/حدیث نمبر:۱۹۰۲)مفتی احمد یار خان نعیمی رحمہ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں: "تر کلیجے والے سے مراد ہر جاندار ہے مگر اس سے موذی جانور مستثنی ہیں لہذا سانپ، بچھو، شیر وغیرہ کو مار دینا ثواب ہے”(مرأۃ المناجیح، ج ۳ ص ۱۰۴/نعیمی کتب خانہ گجرات)
۲۸/جمادی الاولی ۱۴۴۷ھ مطابق ۲۰/نومبر ۲۰۲۵ء
الجواب صحیح
محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی