لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
quadrisociety@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
12 اگست 2026

غائبانہ نماز جنازہ کا شرعی حکم

کیا کسی مرنے والے کی غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھنا درست ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

فقہ حنفی کے مطابق نمازِ جنازہ کی صحت کے لیے میت کا سامنے موجود ہونا شرط ہے۔ اس لیے احناف کے نزدیک غائبانہ نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں ہے۔ نجاشی کی غائبانہ نماز جنازہ کو احناف رسول اللہ ﷺ کا خاصہ قرار دیتے ہیں۔ جن لوگوں نے غائبانہ جنازہ پڑھنا ہو، وہ فقہ شافعی وغیرہ کی تقلید میں پڑھتے ہیں۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
فتویٰ ریفرنس: MW-483 تصدیق شدہ
ٹیگز: احکام میت
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

احکام میت