بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-443 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
جب شوہر نے بیوی سے زیور لے کر بیچ دیا تو شوہر اپنی بیوی کا مقروض (قرض دار) ہو گیا۔ اب وہ رقم چونکہ شوہر کے کاروبار میں لگی ہے، اس لیے شوہر پر اپنے کل مال (بشمول اس رقم کے) کی زکوٰۃ نکالنا فرض ہے۔ بیوی کے پاس چونکہ اب زیور موجود نہیں اور نہ ہی قبضہ ہے، اس لیے بیوی پر فی الحال اس کی زکوٰۃ واجب نہیں۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ