لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
quadrisociety@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
12 اگست 2026

ننگے سر نماز پڑھنے کا شرعی حکم

کیا ٹوپی کے بغیر ننگے سر نماز پڑھ سکتے ہیں؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

نماز میں سر ڈھانپنا (ٹوپی یا عمامہ پہننا) سنتِ مستحبہ اور آدابِ نماز میں سے ہے۔ اگر کوئی شخص سستی یا غفلت کی وجہ سے ننگے سر نماز پڑھتا ہے تو یہ مکروہِ تنزیہی (ناپسندیدہ) ہے، البتہ نماز ہو جائے گی۔ اگر خشوع و خضوع اور عاجزی کی نیت سے ننگے سر پڑھے تو جائز ہے۔ لیکن آج کل فیشن کے طور پر اسے عادت بنا لینا درست نہیں۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
فتویٰ ریفرنس: MW-439 تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

نماز کے مسائل