لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
quadrisociety@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
12 اگست 2026

کیکڑے (Crab) اور آکٹوپس کھانے کا شرعی حکم

کیا سمندری خوراک میں کیکڑا (Crab) کھانا حلال ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

فقہ حنفی کے متفقہ اصول کے مطابق سمندری اور آبی جانوروں میں صرف ‘مچھلی’ کی تمام اقسام حلال ہیں۔ کیکڑا، آکٹوپس، کچھوا، اور گھونگے مچھلی کی قسم سے نہیں ہیں، اس لیے احناف کے نزدیک ان کا کھانا حرام (مکروہِ تحریمی) ہے۔ البتہ دیگر فقہوں (جیسے شوافع) میں یہ حلال ہیں۔ حنفی مقلد کے لیے بچنا لازم ہے۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
فتویٰ ریفرنس: MW-428 تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

جائز وناجائز حلال وحرام