ویڈیو کالنگ کا حکم
ویسے تو مذہب اسلام میں تصویر کشی حرام ہے لیکن ویڈیو کال پر بات کرنا ابتلائے عام ہے اور جب کسی ناجائز کام میں ابتلائے عام ہوجائے تو اس کے حکم میں تخفیف آجاتی ہے لھذا ویڈیو کال میں عموم بلوی متحقق ہونے کی وجہ سے اسے حرام نہیں کہا جاسکتا۔
فقہائے کرام فرماتے ہیں:
"عموم البلوی من موجبات التخفیف۔ یعنی عموم بلوٰی اسبابِ تخفیف سے ہے۔
فتاوی رضویہ میں ہے:
"و الحرج مدفوع بالنص و عموم البلوى من موجبات التخفيف لاسيّما في مسائل الطهارة و النجاسة ”
ترجمہ: نص سے ثابت ہے کہ حرج دور کیا گیا اور عموم بلوی اسباب تخفیف سے ہے خصوصا مسائل طہارت اور نجاست میں۔”اھ
[ الفتاوی الرضویة: ج:٤، ص:٣٩٠، ط:رضا فاؤنڈیشن لاہور پاکستان ]
اسی میں ایک مقام پر امام اہل سنت ارشاد فرماتے ہیں :
” اقول : و لسنا نعنى بهذا ان عامة المسلمين اذا ابتلوا بحرام حل بل الامر ان عموم البلوى من موجبات التخفيف شرعا وما ضاق امر إلّا اتسع فاذا وقع ذلک فی مسئلة مختلف فيها ترجح جانب اليسر صونا للمسلمين عن العسر ولا يخفى على خادم الفقة ان هذا كما هو جار في باب الطهارة و النجاسة كذلك فى باب الاباحة و الحرمة.” یعنی میں کہتا ہوں کہ اور ہماری اس سے مراد یہ نہیں کہ عام مسلمان اگر کسی حرام میں مبتلا ہو جائیں تو وہ حلال ہو جاتا ہے بلکہ مقصد یہ ہے کہ عموم بلوی شرعی طور پر اسباب تخفیف میں سے ہے، کوئی تنگی نہیں جس میں وسعت نہ پیدا ہو، جب یہ معاملہ ایک اختلافی مسئلہ میں واقع ہوا تو مسلمانوں کو تنگی سے بچانے کے ليے آسانی کی جانب کو ترجیح ہوگی۔ خادم فقہ پر پوشیدہ نہیں کہ جیسے یہ ضابطہ طهارت و نجاست میں جاری ہے۔ ایسے ہی حرمت و اباحت میں بھی جاری ہے۔”اه
[ الفتاوی الرضویة:ج:٢٥، ص:٨٩، ط:رضا فاؤنڈیشن لاہور پاکستان ]
اب غور طلب امر یہ ہے کہ کیا ڈیجٹل تصویر اور ویڈیو کال میں عموم بلوی متحقق ہے یا نہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ان امور مذکورہ میں عموم بلوی متحقق ہے کیوں کہ چاہے علما ہوں یا عوام سب اس میں مبتلا ہیں۔ فقہ اسلامی کے سات بنیادی اصول میں ہے:
” فوٹو کھینچوانے کا مسئلہ بھی بلاشبہ عموم بلوی کے دائرے میں آچکا ہے کہ عوام الناس کے ساتھ ساتھ اکابر علما اور اصحاب ورع و تقوی بھی اس میں مبتلا ہوچکے ہیں۔”اھ
[ فقہ اسلامی کے ساتھ بنیادی اصول :ص:١٦٩، باب:٣، عموم بلوی کا بیان]
ان تمام فقہی عبارتوں سے واضح ہوجاتا ہے کہ ویڈیو کال پر گفتگو کرنا اب حرام نہیں رہا بلکہ اس کے حکم میں تخفیف ہوچکی ہے لہذا ویڈیو کال پر بات کرنے والے کو حرام کام کا مرتکب نہیں قرار دیا جاسکتا۔
ہاں جسے ویڈیو کال پر بات کرنے سے بچنے کی توفیق ملے تو وہ بچے کہ یہ زیادہ بہتر ہے۔
١٩ جمادی الاولی١٤٤٨ھ مطابق ٣١ اکتوبر٢٠٢٦ء بروز شنبہ۔
الجواب صحیح
سلمان رضا خان ازہری جامعی
استاذ جامعہ اسلامیہ روناہی فیض آباد یوپی۔
الجواب صحیح
محمد نصیر الدین قادری جامعی مصباحی
استاذ و مفتی جامعہ اسلامیہ روناہی فیض آباد یوپی۔