لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
quadrisociety@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
20 اکتوبر 2026

وہابیہ دیابنہ سے میل جول رکھنا ،شادی بیاہ کرنا اور ان کے ہاتھ کا ذبیحہ کھانا کیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ:
زید ایک ایسی بستی میں رہتا ہے جہاں ہر طرف وہابی، دیوبندی عقائد و نظریات کے لوگ رہتے ہیں۔ اور وہاں صرف انہیں کے مساجد و مقابر ہیں۔ جن کی اقتدا میں نماز پنجگانہ، جمعہ وعیدین اور ان کی موت پر نماز جنازہ ادا کرتا ہے۔ اور ان سب کی ذبیحہ و قربانی کا گوشت بلا جھجک کھاتا اور دوسروں کو کھلاتا ہے۔ نیز ان کی ہر خوشی و غمی کی محفل میں ہمیشہ شرکت کرتا ہے۔ اور مزید یہ کہ اس نے اپنی بیٹی کا نکاح اسی علاقے میں انہیں عقائد و نظریات رکھنے والے لڑکے سے کیا ہے۔ المختصر یہ کہ اس کا مکمل جھکاؤ انہیں لوگوں کی طرف ہے اس لیے لوگ اسے وہابی، دیوبندی کہتے ہیں۔
زید کا لڑکا بکر بچپن ہی سے ایک سنی بستی میں رہتا ہے سنیوں کے عقائد و نظریات اور معمولات سے کوئی اختلاف نہیں رکھتا۔ بستی میں رائج تمام معمولات اہل سنت کو خود بھی انجام دیتا ہے اور دوسروں کے گھر بخوشی ورغبت شریک ہوتا ہے۔
چونکہ بکر کی شادی اسی گاؤں میں ہوئی ہے۔ جس گاؤں میں وہ رہتا ہے۔ اور سسرال والے بھی سنی صحیح العقیدہ مسلمان ہیں۔ لیکن بکر اور اس کے سسر عمر پورے فیملی کے ساتھ بوقت ضرورت زید کے گھر آنا جانا کرتے ہیں اور جانے کے بعد وہیں کھانا پینا، سلام و دعا، وہاں کے مسجد میں جا کر وہابیوں کی اقتدا میں نماز پڑھنا اور ان کی خوشی و غمی کی محفل میں شرکت کرتے رہتے ہیں۔
عمر کے ایک اور داماد ہیں جو مولانا صاحب ہیں۔ انہوں نے بکر و عمر اور ان کے گھر کے لوگوں کو بارہا سمجھایا کہ زید کے گھر آنا جانا اور ہر قسم کا رشتہ تعلق ختم کیجیے کیونکہ مسئلہ کے اعتبار سے قطعا صحیح نہیں ہے۔
مولانا صاحب کے بارہا سمجھانے کے بعد بھی بکر و عمر زید کے گھر آمد و رفت سے اجتناب نہیں کرتے بلکہ طرح طرح کے بہانے بناتے ہیں۔ لہذا بکر و عمر کے اس رویے سے ناراض ہو کر مولانا صاحب نے دونوں یعنی اپنے سسر اور ساڑھو سے ہر قسم کے رشتہ تعلق منقطع کر لیا ہے۔
پس دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید بکر و عمر تینوں پر کیا حکم شرع نافذ ہوتا ہے؟
اور مولانا صاحب کا بکر و عمر سے رشتہ تعلق منقطع کرنا شرعا کیسا ہے؟
اور ان کے ساتھ میل جول رکھنے میں کس درجے کا گناہ ہے۔تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

وہابیہ دیابنہ سے میل جول رکھنا ،شادی بیاہ کرنا اور ان کے ہاتھ کا ذبیحہ کھانا کیسا ہے ؟

تمام وہابیہ دیابنہ اپنے عقائد کفریہ اور انکار ضروریات دین کی وجہ سے بمطابق فتاوی علمائے حرمین شریفین اور ہندو پاک کافر و مرتد ہیں۔
اور ایسے کافر مرتد جو ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔
جس کی تفصیل حسام الحرمین و الصوارم الھندیہ میں مذکور ہے۔
لہذا ان سے کسی بھی قسم کا رشتہ تعلق قائم رکھنا ناجائز و حرام ہے۔
جیسا کہ حدیث شریف میں ہے۔
*ایاکم وایاھم لا یضلونکم ولا یفتنونکم*۔( مسلم شریف ج۱/ ص۱۰)
یعنی بدمذہبوں کو اپنے سے دور رکھو اور تم ان سے دور رہو اور تمہیں کہیں گمراہ نہ کردیں اور کہیں فتنے میں نہ ڈال دیں۔
اور سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں۔
اسی طرح دیوبندی نیچری غرض جو بھی ضروریات دین میں سے کسی شئ کا منکر ہو سب مرتد کافر ہیں۔
ان کے ساتھ کھانا پینا، سلام علیک کرنا، ان کی موت و حیات میں کسی طرح اسلامی برتاؤ کرنا سب حرام ہے۔
( فتاوی رضویہ ج ۱۴/ ص۴۱۲)
اور شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں۔
دیوبندی یا کسی بد مذہب سے میل جول، سلام و کلام، نشست و برکات، خورد و نوش حرام ہے۔(فتاوی شارح بخاری ج ۳/ ص۲۸۴)
مذکورہ بیان کے مطابق زید کافر و مرتد ہے۔ لہذا اس سے میل جول، نشست و برخواست، اور ہر قسم کا رشتہ ناطہ قائم رکھنا ناجائز و حرام ہے۔ پس بکر و عمر زید سے رشتہ تعلق قائم رکھنے کی وجہ سے گنہگار مستحقِ عذاب نار ہے۔ ان پر واجب ہے کہ اعلانیہ توبہ و استغفار کریں اور زید سے کسی بھی قسم کا تعلق قائم رکھنے سے احتراز کریں۔
اور مولانا صاحب کے بارہا سمجھانے کے بعد بھی زید کے گھر آمد و رفت برقرار رکھنے کی وجہ سے مولانا صاحب کا عمرو بکر سے رشتہ تعلق منقطع کر لینا شرعا صحیح و درست ہے۔
جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔
*واما ینسینک الشیطٰن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظالمین* (سورہ الانعام آیت ۵۸)
یعنی اور جو کہیں تجھے شیطان بھلا دے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھو۔
(کنز الایمان )
اوراسکے تحت تفسیرات احمدیہ ص۲۵۵ میں ہے۔
*وان القوم الظالمین یعم الکافر والفاسق والمبتدع* ۔
۱/ جمادی الاولی ۱۴۴۸ھ ۱۴/ اکتوبر ۲۰۲۶ء بروز بدھ

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: الفقیر محمد مجیب اللہ الرضوی۔ خادم التدریس والافتاء مدرسہ غوثیہ رضویہ ڈالٹن گنج ضلع پلاموں۔
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی
فتویٰ ریفرنس: MW-3112 تصدیق شدہ
دار الافتاء شرعی رہنمائی و ہیلپ لائن

شرعی مسئلہ یا استفسار کے لیے براہِ راست رابطہ فرمائیں

اگر آپ کو اس فتوے سے متعلق مزید رہنمائی یا کوئی نیا شرعی مسئلہ دریافت کرنا ہو تو دار الافتاء کے ان سرکاری ذرائع سے رجوع فرمائیں:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و تحقیقی مسائل

اسلامی عقائد