وہابیہ دیابنہ سے میل جول رکھنا ،شادی بیاہ کرنا اور ان کے ہاتھ کا ذبیحہ کھانا کیسا ہے ؟
تمام وہابیہ دیابنہ اپنے عقائد کفریہ اور انکار ضروریات دین کی وجہ سے بمطابق فتاوی علمائے حرمین شریفین اور ہندو پاک کافر و مرتد ہیں۔
اور ایسے کافر مرتد جو ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔
جس کی تفصیل حسام الحرمین و الصوارم الھندیہ میں مذکور ہے۔
لہذا ان سے کسی بھی قسم کا رشتہ تعلق قائم رکھنا ناجائز و حرام ہے۔
جیسا کہ حدیث شریف میں ہے۔
*ایاکم وایاھم لا یضلونکم ولا یفتنونکم*۔( مسلم شریف ج۱/ ص۱۰)
یعنی بدمذہبوں کو اپنے سے دور رکھو اور تم ان سے دور رہو اور تمہیں کہیں گمراہ نہ کردیں اور کہیں فتنے میں نہ ڈال دیں۔
اور سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں۔
اسی طرح دیوبندی نیچری غرض جو بھی ضروریات دین میں سے کسی شئ کا منکر ہو سب مرتد کافر ہیں۔
ان کے ساتھ کھانا پینا، سلام علیک کرنا، ان کی موت و حیات میں کسی طرح اسلامی برتاؤ کرنا سب حرام ہے۔
( فتاوی رضویہ ج ۱۴/ ص۴۱۲)
اور شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں۔
دیوبندی یا کسی بد مذہب سے میل جول، سلام و کلام، نشست و برکات، خورد و نوش حرام ہے۔(فتاوی شارح بخاری ج ۳/ ص۲۸۴)
مذکورہ بیان کے مطابق زید کافر و مرتد ہے۔ لہذا اس سے میل جول، نشست و برخواست، اور ہر قسم کا رشتہ ناطہ قائم رکھنا ناجائز و حرام ہے۔ پس بکر و عمر زید سے رشتہ تعلق قائم رکھنے کی وجہ سے گنہگار مستحقِ عذاب نار ہے۔ ان پر واجب ہے کہ اعلانیہ توبہ و استغفار کریں اور زید سے کسی بھی قسم کا تعلق قائم رکھنے سے احتراز کریں۔
اور مولانا صاحب کے بارہا سمجھانے کے بعد بھی زید کے گھر آمد و رفت برقرار رکھنے کی وجہ سے مولانا صاحب کا عمرو بکر سے رشتہ تعلق منقطع کر لینا شرعا صحیح و درست ہے۔
جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔
*واما ینسینک الشیطٰن فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظالمین* (سورہ الانعام آیت ۵۸)
یعنی اور جو کہیں تجھے شیطان بھلا دے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھو۔
(کنز الایمان )
اوراسکے تحت تفسیرات احمدیہ ص۲۵۵ میں ہے۔
*وان القوم الظالمین یعم الکافر والفاسق والمبتدع* ۔
۱/ جمادی الاولی ۱۴۴۸ھ ۱۴/ اکتوبر ۲۰۲۶ء بروز بدھ