زنا نہ کرنے کی قسم کھائی تھی لیکن وہ گناہ کر لیا تو کیا حکم ہے ؟
صورۃ مستفسرہ میں زید حانث ہوگا اور اس پر کفارہ یمین لازم ہوگا۔
کیونکہ زید نے زنا سے بچنے کی قسم کھائی تھی اور زنا سے متعلق ایسی گفتگو سے بھی اجتناب کا عہد و پیمان کیا تھا۔
لہذا اگر اس نے اپنے مذکورہ الفاظ کے مطابق کسی بھی غیر محرم عورت سے زنا کے موضوع پر گفتگو کی تو اس کی قسم کی خلاف ورزی ہوگی اور وہ حانث ہوگا۔
جیسا کہ حضور صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی علیہ الرحمہ نے تحریر فرمایا کہ:
بعض قسمیں ایسی ہیں کہ ان کا پورا کرنا ضروری ہے۔ مثلا کسی ایسے کام کے کرنے کی قسم کھائی کہ جس کے بغیر قسم ضروری تھا یا گناہ سے بچنے کی قسم کھائی تو اس صورت میں قسم سچی کرنا ضروری ہے۔ مثلا خدا کی قسم ظہر پڑھوں گا یا چوری یا زنا نہ کروں گا*۔(بہار شریعت حصہ ۹ ص ۲۹۹)
اور جب ایسی قسم پوری نہ کی جائے تو کفارہ قسم لازم ہوتا ہے. اور کفارہ قسم یہ ہے کہ ایک غلام ازاد کرے یا دس مساکین کو کھانا کھلائے یا ان کو کپڑا دے۔ اور اگر ان کی استطاعت نہ ہو مسلسل تین یوم روزہ رکھے۔
جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔
فکفارتہ اطعام عشرہ مساکین من اوسط ماتطعمون اھلیکم او کسوتھم او تحریر رقبہ فمن لم یجد فصیام ثلثہ ایام ذالک کفارہ ایمانکم اذا حلفتم*۔(سورہ المائدہ آیت۸۹)
ترجمہ: تو ایسی قسم کا بدلہ دس مسکینوں کو کھانا دینا اپنے گھر والوں کو جو کھلاتے ہو اس کے اوسط میں سے یا انہیں کپڑے دینا یا ایک بردہ آزاد کرنا تو جو ان میں سے کچھ نہ پائے تو تین دن روزے یہ بدلہ ہے تمہارے قسموں کا جب قسم کھاؤ۔ (کنز الایمان)