عاقل، بالغ، آزاد، قادر پر نماز باجماعت ادا کرنا واجب ہے بغیر عذر کے ایک بار بھی چھوڑنے والا گنہگار ، لائق سزا ہے اور کئی مرتبہ چھوڑنے والا فاسق وفاجر مردود الشھادۃ سخت مستحق سزا ہے، اہل محلہ کا بھی فرض بنتا ہے کہ جو لوگ جماعت کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے انہیں جماعت کے ساتھ نماز پڑھوانے کی ہر ممکن کوشش کریں ورنہ وہ بھی گنہگار ہوں گے۔
بہار شریعت میں ہے: "عاقل،بالغ،حر(آزاد)،قادر پر جماعت واجب ہے، بلا عذر ایک بار بھی چھوڑنے والا گنہگار اور مستحق سزا ہے اور کئی بار ترک کرے، تو فاسق مردود الشھادۃ اور اس کو سخت سزا دی جائے گی، اگر پڑوسیوں نے سکوت کیا تو وہ بھی گنہگار ہوئے”(ج ۱، ح، ۳، ص ۵۸۲/جماعت کا بیان/ناشر:مکتبۃ المدینۃ دعوت اسلامی)لہذا جن لوگوں کے بارے میں سوال میں ذکر کیا گیا ہے کہ روزانہ جان بوجھ کر جماعت کے بعد نماز پڑھتے ہیں اگر بغیر کسی عذر شرعی کے ایسا کرتے ہیں تو سخت گناہ کبیرہ کے مرتکب فاسق وفاجر مردود الشھادۃ مستحق سزا ہیں ہاں اگر کسی عذر شرعی کی بنیاد پر ایسا کرتے ہیں تو پھر گنہگار نہ ہوں گے۔
جہاں تک نماز ہوجانے کا مسئلہ ہے تو وہ ہو جائے گی کیونکہ وقت کے اندر ادا کی گئی ہے، البتہ جماعت چھوڑنے کی وجہ سے گنہگار ہوں گے۔
جن عذروں کی وجہ سے جماعت کی حاضری ساقط ہوجاتی ہے وہ درج ذیل ہیں (۱) مریض جسے مسجد تک جانے میں مشقت ہو (۲) اپاہچ۔ (۳) جس کا پاؤں کٹ گیا ہو۔ (۴) جس پر فالج گرا ہو۔ (۵) اتنا بوڑھا کہ مسجد تک جانے سے عاجز ہے (۶) اندھا اگر چہ اندھے کے لیے کوئی ایسا ہو جو ہاتھ پکڑ کر مسجد تک پہنچا دے (۷) سخت بارش اور (۸) شدید کیچڑ کا حائل ہونا۔ (۹) سخت سردی (۱۰) سخت تاریکی (۱۱) آندھی (۱۲) مال یا کھانے کے تلف ہونے کا اندیشہ (۱۳) قرض خواہ کا خوف ہے اور یہ تنگ دست ہے۔ (۱۴) ظالم کا خوف (۱۵) پاخانہ (۱۶) پیشاب (۱۷) ریاح کی حاجت شدید ہے (۱۸) کھانا حاضر ہے اور نفس کو اس کی خواہش ہو (۱۹) قافلہ چلے جانے کا اندیشہ ہے (۲۰) مریض کی تیمارداری کہ جماعت کے لیے جانے سے اس کو تکلیف ہوگی اور گھبرائے گا، یہ سب ترک جماعت کے لیے عذر ہیں”(بہار شریعت،ج ۱ ح ۳ ص ۵۸۳ تا ۵۸۴/مکتبۃ المدینۃ دعوت اسلامی) فتاوی رضویہ میں ہے: "ترک جماعت اور ترک حاضری مسجد کا عادی فاسق ہے اور فاسق قابل اتباع نہیں”(فتاوی رضویہ قدیم، ج ۳ ص ۳۸۰/ باب الجماعت) والله تعالیٰ أعلم بالصواب
(۲) سوال میں لوگوں کی نماز کی جو کیفیت بیان کی گئی ہے وہ ادا کے درجہ میں آئے گی نہ کہ قضا کے کیونکہ وقت کے اندر ادا کی گئی ہے۔ہاں البتہ بغیر جماعت کے پڑھی گئی ہے تو اداء قاصر کہلائے گی۔
حسامی میں ہے: "ثم الاداء المحض ما يؤديه الإنسان بوصفه على ما شرع، مثل اداء الصلاة بجماعة. وأما فعل الفرد فأداء فيه قصور” اس کے تحت النامی شرح حسامی میں ہے”مثل أداء الصلاة الخ: مثال للاداء الكامل، فإنه أداء على وجه مشروع عليه، فإن الصلاة إنما شرعت بجماعة؛ لأن جبريل علم النبی ﷺ بالجماعة في يومين كما هو مروي في الصحاح. فأداء فيه قصور: هذا مثال للاداء القاصر، فإنه أداء على خلاف ما شرع عليه” پھر ادا کامل یہ ہے کہ انسان(مسلمان) مامور بہ کو اسی طریقہ پر ادا کرے جس پر مشروع ہے جیسے نماز باجماعت پڑھنا، اور منفرد کا نماز کو اس کے وقت میں ادا کرنا اداء قاصر ہے۔یعنی جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اداء کامل کی مثال ہے،اس لیے کہ یہ اسی طریقہ پر ادا کرنا ہے جس پر مشروع ہے،کیونکہ حضرت جبرائیل علیہ الصلاۃ والسلام نے حضور ﷺ کو نماز جماعت کے ساتھ دو دن میں بتائی جیسا کہ صحاح میں یہ مروی ومنقول ہے،اور تنہا نماز پڑھنا یہ اداء قاصر کی مثال ہے، اس لیے کہ یہ مشروع طریقے کے خلاف ادا کرنا ہے۔(الحسامى مع النامى، ص ۸۲ /كتاب الله/بيان صفة حكم الأمر/أنواع الأداء/الناشر: مكتبة البشری)
۲۳/ربیع الآخر ۱۴۴۷ھ مطابق ۱۷/اکتوبر ۲۰۲۵ء
الجواب صحیح
محمد اسلم رضا مصباحی عفی عنہ صدر عدالت عالیہ شرعیہ صوبہ جموں